راولپنڈی میں پیڑول پمپ کے مالک کی ٹارگٹ کلینگ کی ویڈیو سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
راولپنڈی کے تھانہ صدر بیرونی کے علاقے ثمر زار کالونی میں پیڑول پمپ کے مالک کی ٹارگٹ کلینگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق تھانہ صدر بیرونی پولیس نے مقتول کے بھائی کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا۔ مقدمہ قتل ،اعانت جرم وغیرہ کی دفعات کے تحت درج کیاگیا۔ بھائی سردار ارشاد کاروباری شخصیت و پیڑول پمپ کا مالک ہے۔
اعجاز الحق نے بتایا کہ میں، دوسرے بھائی اور بھتیجے کے ہمراہ بھائی سردار، ارشاد کے انتظار میں چوہدری اشرف روڈ ثمر زار کالونی کھڑے تھے۔ بھائی نے ہمیں اپنی گاڑی پر اپنے پیڑول پمپ چکری روڈ لیکر جانا تھا۔
جیسے ہی بھائی کی ویگو گاڑی گلی کے قریب آئی تو عقب سے موٹر سائیکل سوار مسلح ملزمان گاڑی کی سائیڈ پر آئے۔ موٹر سائیکل پر عقب میں سوار نامعلوم شخص نے بھائی سردار ارشاد کو جو گاڑی چلا رھے تھے، پر ہے در پے فائرنگ کی۔
گولیاں بھائی کے سینے اور جسم کے دیگر حصوں پر لگیں۔ ملزم فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے جبکہ بھائی کو اسپتال لیکر گیے لیکن وہ شدید زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گئے۔
نامعلوم ملزمان نے بھائی کو نامعلوم وجوہات پر منصوبہ بندی سے فائرنگ کرکے قتل کیا۔
پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔ مقتول کو جس وقت نشانہ بنایا گیا وہ اپنی تین بیٹیوں کو اسکول سے لیکر واپس آرھا تھا لیکن اس کا ذکر ایف آئی آر میں نہیں کیاگیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پیڑول پمپ
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔