اسلام قبول کرنے والی امریکی گلوکارہ جینیفر گراؤٹ کی قرآن کی خوبصورت تلاوت، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
اسلام قبول کرنے والی معروف امریکی گلوکارہ جینیفر گراؤٹ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں انہیں قرآنِ پاک کی دل سوز تلاوت کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کی خوبصورت آواز، پُرسکون اندازِ تلاوت اور عاجزی نے صارفین کے دل موہ لیے ہیں۔
یہ ویڈیو الجزیرہ کے ایک پروگرام کے دوران ریکارڈ کی گئی، جہاں جینیفر گراؤٹ نے نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ قرآنِ مجید کی آیات کی تلاوت کی۔ سوشل میڈیا صارفین نے ان کے انداز کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی تلاوت میں روحانیت اور خلوص جھلکتا ہے۔
سب مسلمان اس کو ویلکم کرے ????
جینیفر گراؤٹ، ایک امریکی گلوکارہ جنہوں نے گانا چھوڑ کر اسلام قبول کیا، الجزیرہ پر قرآنِ پاک کی تلاوت کر رہی ہیں !!pic.
— Mohammad Shehzad Khan (@MShehzadSpeaks) October 29, 2025
یاد رہے کہ جینیفر گراؤٹ نے 2013 میں عرب دنیا کے معروف ٹی وی شو ’عربز گاٹ ٹیلنٹ‘ میں شرکت کی تھی۔ عربی زبان نہ جاننے کے باوجود انہوں نے عربی گیت پیش کر کے عرب دنیا میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی تھی۔
بعدازاں انہوں نے اسلام قبول کیا۔ ان کا تعلق امریکا سے ہے مگر انھوں چار سال تک افریقی مسلم ملک مراکش میں رہائش بھی رکھی۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے ہاتھوں گرفتار ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کے اطالوی رکن نے اسلام قبول کرلیا
اپنے قبولِ اسلام کے حوالے سے جینیفر گراؤٹ کا کہنا تھا کہ ’مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں نے اسلام کو نہیں، بلکہ اسلام نے مجھے چنا ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ قرآن کی تلاوت ایک روحانی تجربہ ہے، جس کے ذریعے انسان خدا کے کلام کو فنکارانہ اور عقیدت بھری کیفیت کے ساتھ محسوس کرتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جینیفر گراؤٹ اسلام جینیفر گراؤٹ قرآن تلاوت جینیفر گراؤٹ ویڈیو وائرل معروف امریکی گلوکارہ جینیفر گراؤٹ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جینیفر گراؤٹ اسلام جینیفر گراؤٹ ویڈیو وائرل امریکی گلوکارہ جینیفر گراؤٹ اسلام قبول کی تلاوت
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔