سمندری سرحدوں کا دفاع کرنا جانتے ہیں، سربراہ پاک بحریہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ سمندری سرحدوں کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے کے پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے کریکس ایریا میں اگلے مورچوں کا دورہ کیا اور پاکستان نیوی کی آپریشنل تیاریوں سمیت جنگی استعداد کا جائزہ لیا۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق پاک بحریہ کے بیڑے میں پاک میرینز میں جدید ترین 2400 ٹی ڈی ہوورکرافٹس کے 3 یونٹس کو باضابطہ طور پر شامل کیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہوورکرافٹس کی شمولیت پاک بحریہ کی آپریشنل صلاحیتوں میں ایک اور اہم پیش رفت ہے، جو کم پانی، دلدل اور خشکی میں بھی چل سکتا ہے۔
اعلامیے کے مطابق ہوورکرافٹس پاک میرینز کے شامل ہونے کے بعد یہ پاک بحریہ کو نمایاں برتری فراہم کریں گے اور دشمن کے خلاف فیصلہ کن و مؤثر ردعمل کی صلاحیت مزید مضبوط بنائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاک بحریہ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔