امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ نے جمعرات کے روز جنوبی کوریا کے شہر بسّان میں ملاقات کی، جسے دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان جاری تجارتی جنگ میں ممکنہ جنگ بندی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ ملاقات ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (APEC) اجلاس کے موقع پر گِم ہائے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہوئی۔ یہ دونوں رہنماؤں کی 2019 کے بعد پہلی بالمشافہ ملاقات تھی۔

شی سخت مذاکرات کار ہیں، ٹرمپ

صدر ٹرمپ، جن کے ہمراہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک بھی شریک تھے، نے بات چیت کے آغاز پر کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ ملاقات ’انتہائی کامیاب‘ ہوگی۔
ان کا کہنا تھا، ’ہم ایک بہت کامیاب میٹنگ کرنے جا رہے ہیں، مجھے کوئی شک نہیں۔ لیکن وہ (شی) ایک بہت سخت مذاکرات کار ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے چین اور امریکا کے درمیان دفاعی مذاکرات کا آغاز ہوگیا

چینی صدر شی جن پنگ نے مترجم کے ذریعے جواب دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کی 2 بڑی معیشتوں کے درمیان وقتاً فوقتاً اختلافات معمول کی بات ہے، تاہم وہ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے خواہاں ہیں۔

 عالمی منڈیوں میں بہتری، یوان کی قدر میں اضافہ

ملاقات کی خبروں کے بعد چینی کرنسی یوان کی قدر ایک سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جب کہ وال اسٹریٹ اور ٹوکیو سمیت دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں مثبت رجحان دیکھا گیا۔
ماہرین کے مطابق سرمایہ کار اب تجارتی کشیدگی میں کمی کی امید کر رہے ہیں۔

 مذاکرات میں نئی پیش رفت

شی جن پنگ نے کہا کہ چند روز قبل دونوں ممالک کے مذاکرات کاروں نے ایک دوسرے کے ’بنیادی خدشات دور کرنے پر اتفاقِ رائے‘ حاصل کر لیا ہے۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق چین ایک سال کے لیے ریئر ارتھ منرلز کی برآمد پر پابندی مؤخر کرے گا اور دوبارہ امریکی سویا بینز کی خریداری شروع کرے گا۔

تجارتی رعایتیں اور فینٹینیل پر امریکی مطالبہ

صدر ٹرمپ نے بدھ کو کہا تھا کہ وہ چینی اشیاء پر امریکی ٹیرف میں کمی کے بدلے بیجنگ سے فینٹینیل کی تیاری میں استعمال ہونے والے کیمیکلز کے بہاؤ کو روکنے کی یقین دہانی چاہتے ہیں۔
فینٹینیل ایک مہلک مصنوعی منشیات ہے جو امریکا میں اموات کی سب سے بڑی وجہ بن چکی ہے۔

ٹک ٹاک اور ٹیکنالوجی کے معاملات پر بھی بات

ذرائع کے مطابق، ملاقات میں سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک کے مستقبل پر بھی بات چیت متوقع تھی، جسے امریکی حکومت نے چینی ملکیت کے باعث ممکنہ پابندی کی وارننگ دے رکھی ہے۔

 پرانے تجارتی معاہدے کا خاتمہ قریب، نئے معاہدے کی دوڑ

2019 میں طے پانے والے تجارتی معاہدے، جن کے تحت دونوں ممالک نے ٹیرف کی شرح میں کمی کی تھی، 10 نومبر کو ختم ہونے والے ہیں۔
اسی لیے بسّان کی یہ ملاقات ایک نئے تجارتی فریم ورک کی تیاری کے لیے نہایت اہم سمجھی جا رہی ہے۔

 نایاب معدنیات اور دفاعی مسابقت

گزشتہ ہفتے چین نے ریئر ارتھ منرلز (نایاب معدنیات) پر برآمدی پابندیاں بڑھانے کی تجویز دی تھی جو ہائی ٹیک مصنوعات اور دفاعی ٹیکنالوجی میں بنیادی کردار رکھتی ہیں۔
ٹرمپ نے جواباً دھمکی دی تھی کہ وہ چینی برآمدات پر 100 فیصد ٹیرف عائد کریں گے اور امریکی سافٹ ویئر سے بننے والی مصنوعات کی چین کو برآمد پر پابندی لگا دیں گے۔

 ایٹمی تجربات کا عندیہ اور علاقائی خدشات

ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ’ٹرتھ سوشل‘ پر ایک پیغام میں کہا کہ جی ٹو جلد ملاقات کر رہے ہیں، اور ایک الگ پوسٹ میں اعلان کیا کہ امریکہ ایٹمی تجربات میں اضافہ کرے گا تاکہ چین کے بڑھتے ہوئے ہتھیاروں کا مقابلہ کیا جا سکے۔
اس بیان پر سوال پوچھے جانے پر ٹرمپ نے کسی ردعمل سے گریز کیا۔

 تائیوان پر تناؤ، لیکن امریکا اپنے اتحادی کے ساتھ کھڑا ہے

چین کے H-6K بمبار طیاروں کی تائیوان کے قریب پروازوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا کہ تائیوان کو ان مذاکرات سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ امریکی قانون کے تحت واشنگٹن تائیوان کو دفاعی مدد فراہم کرنے کا پابند ہے۔

یہ بھی پڑھیے ہالی ووڈ فلمیں بھی امریکا چین ٹیرف جنگ کی زد میں آگئیں

بسّان کی ملاقات صدر ٹرمپ کے 5 روزہ ایشیائی دورے کا آخری مرحلہ تھی، جس کے دوران انہوں نے جاپان اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ نایاب معدنیات کے سمجھوتے طے کیے۔
امریکی صدر نے اس موقع پر کہا کہ دنیا جلد ہی ’ایک نیا، منصفانہ تجارتی نظام‘ دیکھے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: مذاکرات کا کہا کہ

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف