فائل فوٹو

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ہمارے ارکانِ اسمبلی چٹان کی طرح پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں۔

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ اسپیکر کا الیکشن ہو یا وزارتِ اعلیٰ کے لیے میرا انتخاب، پارٹی کا کوئی بندا بھی اِدھر اُدھر نہیں ہوا۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے میں گُڈ گورننس کی وجہ سے پی ٹی آئی کو تیسری بار حکومت ملی، ہم اس بار بھی پہلے کی طرح ڈیلیور کریں گے، خیبر پختونخوا میں بنیادی انسانی حقوق پامال نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری اِن ہاؤس کمیٹی نے گزشتہ روز چار گھنٹے مختلف امور پر غور کیا، اور اس کے لیے قوانین بنیں گے۔

خیبرپختونخوا سے سینیٹ کی خالی جنرل نشست پر ضمنی انتخاب کیلئے پولنگ جاری

ضمنی انتخاب کے لیے ن لیگ کے حمایت یافتہ تاج محمد آفریدی اور پی ٹی آئی کے خرم ذیشان مدمقابل ہیں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ پاک افغان مذاکرات خوش آئند ہیں، لیکن ہمارے خدشات بھی موجود ہیں، خیبر پختونخوا حکومت اور یہاں کے عوام اسٹیک ہولڈر ہیں، مذاکرات ہوں یا کوئی فیصلہ ہمیں اعتماد میں لیا جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ میرے خیال میں پاکستان کو اپنا مفاد دیکھنا چاہیے، ممالک سے دوستی اور دشمنی مفادات کے تابع ہوتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: سہیل آفریدی نے کہا خیبر پختونخوا نے کہا کہ

پڑھیں:

پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔

دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا