خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کہتے ہیں کہ جیل میں قید بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا پیغام انہیں موصول ہو چکا ہے، اور وہ حقیقی آزادی لے کر ہی رہیں گے۔

انہوں نے کہاکہ عمران خان کا پیغام مجھے مل چکا ہے، ’آزادی یا موت‘، اب ہم ہم حقیقی آزادی لے کر ہی رہیں گے۔

مزید پڑھیں: کوہاٹ میں پی ٹی آئی کا جلسہ: عمران خان کا پیغام آ چکا، اب آزادی یا موت، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

گزشتہ روز کوہاٹ میں جلسے سے پُرجوش خطاب میں انہوں نے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنایا اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاج میں ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

عمران خان کا جیل سے پیغام آ چکا ہے کہ آزادی یا موت، تو اگر اِس دفعہ ہم جائیں گے تو یا کفن میں واپس آئیں گے یا آزادی لے کر آئیں گے، سُہیل آفریدی pic.

twitter.com/g19HXpO3dS

— WE News (@WENewsPk) December 14, 2025

انہوں نے پہلی بار عمران خان کا پیغام موصول ہونے کے بارے میں بتایا، تاہم یہ واضح نہیں کیاکہ عمران خان نے کیا پیغام دیا ہے اور کس کے ذریعے دیا گیا ہے۔ سہیل آفریدی نے کہاکہ عمران خان کی ہدایات پر مکمل عمل ہوگا۔

سہیل آفریدی کا کوہاٹ کا جلسہ کتنا بڑا تھا؟

کوہاٹ کے ملز ایریا گراؤنڈ میں اتوار کو پی ٹی آئی کا جلسہ منعقد ہوا، جس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت دیگر صوبائی قائدین نے شرکت کی۔ علیم حیدر کوہاٹ کے صحافی ہیں اور انہوں نے جلسے کی کوریج کی۔

علیم حیدر نے ’وی نیوز‘ کو بتایا کہ ملز ایریا گراؤنڈ کافی بڑا ہے، تاہم پی ٹی آئی نے گراؤنڈ کو دو حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے 3 ہزار کرسیاں لگانے کے دعوے کیے گئے تھے۔

’جلسہ کامیاب تھا، قریباً 6 ہزار تک لوگ موجود تھے۔ کوہاٹ کے علاوہ کرک اور دیگر اضلاع سے بھی کارکنان جلسے میں شرکت کے لیے آئے تھے۔‘

علیم حیدر کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں کا لہجہ سخت تھا اور انہوں نے مخالفین کو نشانہ بنایا۔

عمران خان نے سہیل آفریدی کو پیغام پہنچا دیا، وہ وزیراعلیٰ سے کیا چاہتے ہیں؟

سہیل آفریدی وزیراعلیٰ بننے کے بعد سے ہی عمران خان سے ملاقات کی کوششوں میں ہیں۔ پی ٹی آئی کے مطابق وہ 10 بار اڈیالہ جیل گئے، لیکن ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔ تاہم پہلی بار انہوں نے کارکنان کے سامنے عمران خان کا پیغام ملنے کی تصدیق کی ہے۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ احتجاج ہوگا، اور وہ احتجاج میں مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرا چکے ہیں۔

جلسہ کور کرنے والے صحافی علیم حیدر کے مطابق سہیل آفریدی نے عمران خان کے پیغام کا ذکر ضرور کیا، لیکن اس پر واضح یا کھل کر بات نہیں کی۔

انہوں نے بتایا کہ عمران خان نے کیا پیغام دیا، اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا، تاہم اشارہ دیا گیا کہ اگر احتجاج ہوا تو وہ مکمل تعاون کریں گے۔

پشاور کے نوجوان صحافی شہاب الرحمان، جو سیاسی ایشوز پر گہری نظر رکھتے ہیں، کے مطابق کوہاٹ میں سہیل آفریدی نے کھل کر بات نہیں کی، تاہم یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ احتجاجی تحریک چلانے کے حق میں ہیں۔

’احتجاج سے متعلق فیصلہ محمود اچکزئی اور ناصر عباس کریں گے‘

ان کے مطابق سہیل آفریدی نے بتایا کہ احتجاج کے حوالے سے فیصلہ سازی کی ذمہ داری عمران خان نے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو دی ہے، اور جو فیصلہ وہ کریں گے، سہیل آفریدی اس پر عمل کریں گے۔

’اگر دیکھا جائے تو سہیل آفریدی نے واضح کردیا ہے کہ وہ چاہنے کے باوجود احتجاج کا فیصلہ خود نہیں کر سکتے، فیصلہ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کا ہوگا۔‘

شہاب الرحمان کے مطابق پی ٹی آئی کے کارکنان احتجاجی تحریک چلانے کے حق میں ہیں، اور جب سہیل آفریدی وزیراعلیٰ نہیں تھے تو وہ بھی احتجاجی سیاست کے حق میں بولتے تھے، جبکہ وہ خود کو احتجاجی سیاست کا ماہر بھی سمجھتے ہیں۔

’حالات کو دیکھا جائے تو عمران خان سہیل آفریدی اور پارٹی سے صرف ایک ہی کام چاہتے ہیں، اور وہ ہے اپنی رہائی۔ اسی مقصد کے لیے احتجاجی تحریک چلا کر مقتدر حلقوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔‘

’سہیل آفریدی کو عمران خان کا پیغام پہنچنا کوئی بہت بڑی بات نہیں‘

پی ٹی آئی کے ایک باخبر رہنما نے بھی عمران خان کے پیغام کے حوالے سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی کو عمران خان کا پیغام پہنچنا کوئی بہت بڑی بات نہیں۔

انہوں نے کہاکہ عمران خان کی بہنیں بھائی کا پیغام پہنچاتی ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ پیغام کیا تھا اور کون لے کر آیا، لیکن میرا خیال ہے کہ خان کی بہن ہی یہ پیغام لے کر آئی ہوں گی۔

ان کے مطابق عمران خان اپنی رہائی کے لیے مہم شروع کرنے کے حق میں ہیں، اور سہیل آفریدی کو لانے کا مقصد بھی یہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ سہیل آفریدی کی باتوں سے لگتا ہے کہ سب عمران خان کے نام پر تعاون ہی مانگ رہے ہیں، اور وہ خود آزادانہ طور پر کچھ نہیں کر رہے۔

’پی ٹی آئی میں پرانے اور دیرینہ رہنماؤں کو سائیڈ لائن کردیا گیا‘

شہاب الرحمان بھی جزوی طور پر اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی میں پرانے اور دیرینہ رہنماؤں کو سائیڈ لائن کیا گیا ہے، اور یوتھ کو فرنٹ پر لایا گیا ہے، لیکن اختیارات ان کے پاس نہیں ہیں۔

مزید پڑھیں: جنرل فیض حمید کو سزا، کیا عمران خان بھی لپیٹ میں آ سکتے ہیں؟

’سہیل آفریدی وزیراعلیٰ ہیں اور جنید اکبر صوبائی صدر ہیں۔ دونوں احتجاج کے حق میں ہیں، لیکن احتجاج کے حوالے سے فیصلہ سازی کا اختیار محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو دیا گیا ہے، جو پی ٹی آئی کے رکن نہیں ہیں۔‘

ان کے مطابق اب سہیل آفریدی کو بھی اندازہ ہو گیا ہے کہ احتجاج یا تصادم سے معمولات زندگی متاثر ہوں گے، اور اسی لیے اب ان کے لہجے میں فرق نظر آ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews پیغام موصول سہیل آفریدی عمران خان عمران خان رہائی موت یا حقیقی آزادی وی نیوز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پیغام موصول سہیل ا فریدی عمران خان رہائی موت یا حقیقی ا زادی وی نیوز عمران خان کا پیغام کے مطابق پی ٹی آئی سہیل آفریدی نے سہیل آفریدی کو کے حق میں ہیں کہ عمران خان پی ٹی آئی کے ان کے مطابق اچکزئی اور علیم حیدر بات نہیں نے کہاکہ انہوں نے دیا گیا کریں گے گیا ہے خان کی کے لیے اور وہ

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف