اس بار ڈی چوک سے آزادی لیکر یا کفن میں واپس آئیں گے، وزیراعلی خیبر پختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
اس بار ڈی چوک سے آزادی لیکر یا کفن میں واپس آئیں گے، وزیراعلی خیبر پختونخوا WhatsAppFacebookTwitter 0 14 December, 2025 سب نیوز
کوہاٹ (آئی پی ایس )وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی نے کہا ہے کہ اس بار ڈی چوک جائیں گے تو آزادی لیکر یا کفن میں واپس آئیں گے۔کوہاٹ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی چیئرمین کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے، جج سے ملنے جاتے ہیں ہمیں ملنے نہیں دیا جاتا، جنہوں نے ہمارے منڈیٹ کی حفاظت کرنی تھی انہوں ڈاکہ ڈالا ہوا ہے، ہمارے محافظ ہی ہمارے قاتل بنے ہوئے ہیں۔
وزیراعلی خیبر پختونخوا نے کہا کہ کچھ ٹاوٹس رات کو میڈیا پر بیٹھ کر گولیوں کی دھمکی دیتے ہیں۔ عمران خان نے احتجاج یا مذاکرات کی ذمہ داری محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو دی ہے، جب بھی انکی طرف سے کال آئے گی سب نے تیار رہنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ملکر حقیقی آزادی ان سے چھین کر لینی ہے، وفاقی حکومت نے 5 ہزار 3 سو ارب روپے کی کرپشن کی ہے، پاکستان پر قرضہ 80 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، ہمیں گورننس کا مشورہ دینے والوں نے ملک کو قرضے میں ڈبو دیا ہے۔انہوں نے وزیراعلی پنجاب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میڈیٹ چور جو کا کے اور کی کو نہیں سمجھ سکتی مجھے مشورے دے رہی ہے، پنجاب پولیس کو پورے پاکستان میں کرپٹ ترین ادارہ بنایا گیا ہے، سرمایہ کاری خیبرپختونخوا میں ہورہی ہے پنجاب میں سرمایہ کاری کم ہوگئی ہے اور مشورہ بھی ہمیں دیا جارہا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربگرام ایئربیس پر فوجی ساز و سامان کی تیاری کا طالبان رجیم کا پروپیگنڈا بے نقاب بگرام ایئربیس پر فوجی ساز و سامان کی تیاری کا طالبان رجیم کا پروپیگنڈا بے نقاب پی ٹی آئی رہنما قاضی انور ایڈووکیٹ پارٹی سے مستعفی ہوگئے اب فیض حمید سے فیض یاب ہونے والوں کااحتساب ہوگا،سینئر سیاستدان محمود مولوی شوکاز نوٹس پر پی ٹی آئی عہدیداروں نے اپنے استعفے پارٹی قیادت کو پیش کر دیے افغانستان پر علاقائی ممالک کا اجلاس، پاکستان کو لاحق دہشتگردی خطرات کا تدارک ناگزیر قرار جنرل باجوہ نے فیض حمید سے کہا رانا بہت موٹا ہوگیا، اسے دوبارہ سمارٹ بنائو، رانا ثنا اللہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وزیراعلی خیبر پختونخوا کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔