data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 

251214-08-14

 

لاہور (مانیٹر نگ ڈ یسک) لاہورکی لطیف جیولری مارکیٹ سے 20 کلو سونا غائب ہونے کا بڑا اسکینڈل سامنے کے آنے کے بعد متاثرہ جیولرز کی درخواستوں پر مقدمات کے اندراج کا سلسلہ جاری ہے۔ سنار نورالعین نے 9 کروڑ مالیت کے سونا غائب ہونے کا مقدمہ درج کروا دیا، متاثرہ سنار نے کہا کہ 9 کروڑ مالیت کا سونا وسیم اختر کے پاس امانتا رکھا تھا، متعدد بار کہا کہ سونا واپس کردو مگر ملزم وسیم نے سونا واپس نہ کیا۔ پولیس نے کہا کہ ملزم وسیم اختر متعدد سناروں کا سونا لے کر فرار ہوگیا، اچھرہ پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کی گرفتاری کے لیے کوششیں تیز کر دیں۔  پولیس نے کہا کہ تمام متاثرہ جیولرز کے مقدمات درج کرنے کا عمل تیز رفتار سے جاری ہے۔ پولیس نے فراڈ کے علاوہ دیگر پہلوؤں پر بھی تحقیقات کا آغاز کردیا جبکہ ملزم شیخ وسیم کی ٹریول ہسٹری کے مطابق واردات سے قبل8نومبر کو ملزم لاہور ائرپورٹ سے ملائیشیا روانہ ہوا ، 16 نومبر کو ملزم شیخ وسیم تھائی لینڈ سے واپس لاہور پہنچا، بیرون ممالک سفر کا سلسلہ 12 مئی 2007 کو شروع ہوا، ملزم ملائیشیا ، بنکاک ، دبئی ،سعودی عرب کے مختلف شہروں کا سفر کرتا رہا۔

مانیٹرنگ ڈیسک.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پولیس نے کہا کہ

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی