ٹر مپ نے پھر وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو عظیم شخصیات قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251030-01-17
سیول(مانیٹرنگ ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کی اور رواں سال مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان 4 روزہ تنازع کے خاتمے میں اپنے کردار کو دہراتے ہوئے اسے سراہا۔جنوبی کوریا کے شہر گیونگجو میں منعقدہ ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (ایپک) کے دوپہر کے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے بھارت، پاکستان اور دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے تنازع کا تذکرہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ’میں بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ کر رہا ہوں، اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں، وزیراعظم نریندر مودی کے لیے میرے دل میں بڑا احترام اور محبت ہے، ہمارے تعلقات بہترین ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’اسی طرح پاکستان کے وزیراعظم ایک شاندار شخصیت ہیں، اور وہاں ایک فیلڈ مارشل ہیں، آپ جانتے ہیں وہ فیلڈ مارشل کیوں ہیں؟ کیونکہ وہ بہترین جنگجو ہیں، وہ واقعی ایک عظیم شخص ہیں‘۔ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے نریندر مودی سے فون پر کہا کہ ہم آپ کے ساتھ تجارتی معاہدہ نہیں کرسکتے‘، مودی نے کہا کہ ’نہیں، ہمیں ضرور کرنا ہوگا‘، میں نے کہا کہ ’نہیں، ہم نہیں کر سکتے، آپ پاکستان سے جنگ شروع کر رہے ہیں‘۔امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے اسی طرح کی بات پاکستان کی قیادت سے بھی کی، ’میں نے کہا کہ، ہم آپ کے ساتھ تجارت نہیں کریں گے کیونکہ آپ بھارت سے لڑ رہے ہیں‘، ’دونوں نے کہا کہ نہیں، نہیں، ہمیں لڑنے دیں‘، ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہاکہ وہ واقعی لڑاکا قومیں ہیں۔ٹرمپ نے ہنستے ہوئے مودی کو سب سے خوبصورت شخص‘ قرار دیا اور ان کی نقل کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ سخت گیر اور زبردست آدمی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دو دن بعد دونوں ملکوں نے فون کیا اور کہا کہ ہم سمجھ گئے، اور انہوں نے لڑائی روک دی، کیا یہ حیرت انگیز نہیں؟ آپ سوچتے ہیں بائیڈن ایسا کر سکتے؟ مجھے نہیں لگتا۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’ہم معاہدے کر رہے تھے، تو میں نے بس ایک جملہ شامل کیا، ’ایک دوسرے پر گولیاں چلانا بند کرو’، 7 طیارے گرائے گئے تھے اور جنگ رک گئی۔امریکی صدر نے کہا کہ ان کی کامیابی سخت تجارتی پالیسی کی وجہ سے ممکن ہوئی، میں نے دونوں ممالک پر 250 فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی دی، جس کا مطلب تھا کہ وہ کبھی کاروبار نہیں کر سکیں گے اور 48 گھنٹے کے اندر کوئی جنگ نہیں رہی، کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔علاوہ ازیں عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ اور جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے جنوبی کوریا میں ہونے والی ایک سربراہی ملاقات کے دوران اپنے متنازع تجارتی معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دے دی۔ٹرمپ نے ایشیا پیسیفک فورم کے موقع پر لی جے میونگ اور دیگر علاقائی رہنماؤں کے ساتھ عشائیے کے دوران کہا کہ’ ہم نے تجارتی معاہدہ کر لیا ہے۔وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر اس تجارتی معاہدے کی تفصیلات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا، جسے جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ سے منظوری حاصل کرنا ضروری ہے۔واضح رہے کہ ٹرمپ ایسے وقت میں جنوبی کوریا پہنچے جب شمالی کوریا نے ایک ایٹمی صلاحیت رکھنے والے کروز میزائل کا تجربہ کیا تھا، انہیں گیونگجو میں جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ کی جانب سے پْرتعیش استقبال دیا گیا، یہ وہ تاریخی شہر ہے جہاں اس سال کا ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (APEC) فورم منعقد ہو رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جنوبی کوریا امریکی صدر فیلڈ مارشل نے کہا کہ انہوں نے کے ساتھ نہیں کر
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔