جوبائیڈن کا امریکی عوام کو پیغام: یہ تاریک دن ہیں مگر امید نہ چھوڑیں
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بوسٹن: سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ملک اندھیروں کے دنوں سے گزر رہا ہے اور امریکی عوام کو چاہئے کہ وہ حوصلہ نہ ہاریں بلکہ جمہوریت کی بنیادوں پر قائم رہیں۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق بائیڈن نے یہ بیان بوسٹن میں ایڈورڈ ایم کینیڈی انسٹیٹیوٹ سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ وصول کرنے کے بعد دیا جو ان کے کینسر کے علاج کے بعد عوامی خطاب کا پہلا موقع تھا۔
82 سالہ بائیڈن نے کہا کہ امریکا ایک ایسے نظام کی علامت رہا ہے جو کسی فوج یا آمر سے زیادہ طاقتور ہے، ملک کی طاقت ایک محدود اختیارات رکھنے والے صدر، فعال کانگریس اور خودمختار عدلیہ میں مضمر ہے۔
انہوں نے موجودہ حکومت کے دوسرے طویل ترین شٹ ڈاؤن کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی طاقت کے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ دوستوں، میں اس معاملے کو گلابی رنگ میں پیش نہیں کر سکتا، یہ واقعی اندھیرے دن ہیں، امریکا دوبارہ اپنے حقیقی اصولوں کی طرف لوٹے گا اور مضبوط، دانشمند اور انصاف پسند بن کر ابھرے گا، بشرطیکہ لوگ ایمان قائم رکھیں۔
سابق صدر نے اُن افراد کی مثالیں بھی دیں جو موجودہ انتظامیہ کے خطرات کے خلاف کھڑے ہیں، جن میں وفاقی ملازمین شامل ہیں جنہوں نے احتجاج میں استعفیٰ دیا اور یونیورسٹیاں اور کامیڈینز جنہیں ٹرمپ انتظامیہ نے ہدف بنایا۔
بائیڈن نے ان ریپبلکن اہلکاروں کی بھی تعریف کی جو ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف ووٹ دیتے ہیں، امریکا کوئی پریوں کی کہانی نہیں، 250 سالوں سے یہاں مسلسل کشمکش جاری ہے، خطرے اور امکانات کے درمیان ایک وجودی جدوجہد۔
واضح رہے کہ بائیڈن نے اس سال اپنے کینسر کی تشخیص کے بعد ریڈی ایشن تھراپی مکمل کی ہے، ان کے پروسٹیٹ کینسر کی گریڈنگ 9 تھی، جو انتہائی جارحانہ قسم کے کینسر کے زمرے میں آتا ہے، سابق صدر نومبر میں 83 سال کے ہو جائیں گے اور اگلے ماہ نیبراسکا ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک پروگرام میں شرکت کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بائیڈن نے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔