data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)جمعیت علما پاکستان کے مرکزی ترجمان ڈاکٹر یونس دانش نے آٹو بھان روڈپر تعلیمی اداروں کے نزدیک شراب خانے کے قیام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی ماحول اور گنجان آبادی اور مساجد و مدارس کے قریب اس قسم کے غیر اخلاقی مراکز کھولنا ملک و ملت کے خلاف ایک گہری سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات اسلامی تشخص، سماجی اقدار اور تہذیبی ورثے کے خلاف کھلی جارحیت کے مترادف ہیں۔ڈاکٹر یونس دانش نے کہا کہ نوجوان نسل پہلے ہی بے راہ روی کے گوناگوں خطرات سے دوچار ہے، ایسے میں شراب خانوں کا قیام معاشرتی بگاڑ کو مزید بڑھائے گا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور انتظامیہ کو فی الفور اس فیصلے کو واپس لیتے ہوئے اس غیر سنجیدہ اور عوام دشمن اقدام کی جامع تحقیقات کرنی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ عوام، والدین، تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور سماجی تنظیمیں اس مسئلے پر شدید تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔مرکزی ترجمان نے اعلان کیا کہ جمعیت علما پاکستان اس مسئلے پر بھرپور آواز بلند کرتی رہے گی اور کسی بھی سطح پر ایسے غیر اخلاقی منصوبوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ معاشرہ اسلامی اصولوں، اعتدال اور تہذیب و اخلاق کے دائرے میں ہی ترقی کر سکتا ہے اور اسی مقصد کیلئے جدوجہد جاری رہے گی۔

اسٹاف رپورٹر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم