جموں و کشمیر کی نام نہاد اسمبلی بے اختیار اور نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹننٹ گورنر کے تابع ہے، مبصرین
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
اپوزیشن ارکان نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ منتخب نمائندوں کو مقبوضہ علاقے میں گورننس کی بنیادی نگرانی سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نام نہاد قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے ارکان اسمبلی کو ہدایت کی ہے کہ وہ لیفٹیننٹ گورنر کے دائرہ اختیار میں آنے والے محکموں سے متعلق سوالات نہ اٹھائیں جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ اہم انتظامی اختیارات لیفٹننٹ گورنر کے پاس ہیں۔ ذرائع کے مطابق سرینگر میں منعقدہ اسمبلی اجلاس کے دوران اسپیکر نے جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ کی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے رولنگ دی کہ لنگیٹ سے رکن اسمبلی شیخ خورشید کی طرف سے محکمہ داخلہ کے حوالے سے اٹھائے گئے سوال کو حذف کر دیا جاتا ہے۔ ایم ایل اے علاقے میں تشدد سے متاثرہ خاندانوں کو SRO-43 کے تحت عبوری ریلیف دینے میں تاخیر کی وجوہات معلوم کرنا چاہتے تھے۔ عوامی اتحاد پارٹی کی نمائندگی کرنے والے خورشید نے خاص طور پر حکومت سے کہا تھا کہ وہ متاثرین کے لواحقین کو معاوضے کے لیے وقت مقرر کرے، لیکن اسپیکر نے کہا کہ اس معاملے پر بات نہیں ہو سکتی کیونکہ محکمہ داخلہ براہ راست لیفٹیننٹ گورنر کے کنٹرول میں ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ حکم ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نام نہاد اسمبلی بے اختیار ہے اور نئی دہلی کے مسلط کردہ لیفٹننٹ گورنر کے تابع ہے۔اپوزیشن ارکان نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ منتخب نمائندوں کو مقبوضہ علاقے میں گورننس کی بنیادی نگرانی سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ترک سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے ملاقات کی،جس میں پاک ترک تعلقات، باہمی تعاون اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔منگل کو گورنر آفس اسلام آباد سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی اورخیبرپختونخوا اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پرگورنر خیبرپختونخوانے کہا کہ پاک۔بھارت جنگ میں ترکیہ نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا،نئی نسل کو پاک ترک دوستی میں متحرک کرنا انتہائی ضروری ہے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تاجروں اور طلبہ کے ترکیہ دوروں کا سلسلہ شروع کیا جائے،دونوں ممالک کے ثقافتی اور ادبی وفود کے دورے بھی انتہائی ضروری ہیں، ایسے اقدامات سے ترکیہ اور پاکستان دوستی مزید مضبوط ہو گی۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ زراعت کے شعبہ میں بھی دونوں ممالک بالخصوص خیبرپختونخوا میں ترقی اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا نے پشاور کو ترکیہ کے کسی بڑے شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دینے کی تجویز پیش کی۔ترک سفیر نے بتایا کہ پشاور کو ترکیہ کے ایک شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دیا جائے گا، پاکستان کے نوجوانوں کو آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لئے تعاون کریں گے۔ ترک سفیر نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کو نوجوانوں کی ترقی کے لئے ایک مثبت اور موثر اقدام قرار دیا۔ترک سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیم، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون مزید فروغ پائے گا۔ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی بھی موجود تھے۔