ریاض احمدچودھری
بھارتی ریاست اتر پردیش میں ہندو توا انتظامیہ نے لاؤڈ سپیکروں کے خلاف مہم تیز کرتے ہوئے مختلف مساجد سے 55 سپیکر نکال دیے ہیں۔ پولیس نے ریاست کے ضلع مظفر نگر کے سول لائز ، کوتوالی اور کھلہ پور تھانوںکی حدود میں واقع مساجد سے لاوڈ سپیکر اتار دیے ہیں۔ سرکل افسر (سٹی) سدھار تھ ناتھ مشرا نے لاؤڈ سپیکر نکالنے کا جواز فراہم کرنے کیلئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے آواز دھیمی رکھنے کو جو ہدایت دی تھی اسکی خلاف ورزی ہور رہی تھی۔مودی کے بھارت میں ہندو انتہا پسندی اس حد تک عروج پر ہے کہ عدالتیں بھی انتہا پسندوں کا حکم ماننے کو مجبور ہیں۔ پنجاب اور ہریانہ ہائیکورٹ نے بھی اذان کیلئے اسپیکر کے استعمال کو غیر ضروری قراردے دیا۔ جبکہ بھارتی عدالت نے گلوکار سونونگم کے اذان کے خلاف ٹوئٹ پر دائر مقدمہ اسے سستی شہرت کے حصول کا ذریعہ قراردیتے ہوئے مسترد کردیا۔پنجاب اور ہریانہ کورٹ نے کہا کہ اذان کو اسلامی عبادات کیلئے لازمی ہونا چاہئے مگر لاوؤڈ اسپیکر کو نہیں۔ جب سے مودی سرکار نے بھارت کا کنٹرول سنبھالا ہے، مسلمانوں کے خلاف ہر ممکن و ناممکن اقدام جائز قرار دیا جاتا رہا ہے۔ یوں تو بھارت میں اذان کے خلاف شدت پسند ہندو تنظیموں کے علاوہ مختلف حلقوں سے آوازیں اٹھتی رہی ہیں۔ تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران لاؤڈ اسپیکر پر اذان کی مخالفت بڑھتی جارہی ہیں۔ اب بھارت میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔
الٰہ آباد یونیورسٹی کی وائس چانسلر کی جانب سے اذان کے خلاف شکایت، اس سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔پروفیسر سنگیتا سریواستوا نے ضلع مجسٹریٹ کو دی گئی اپنی شکایت میں کہا ہے، ”میں یہ بات آپ کے علم میں لانا چاہتی ہوں کہ قریبی مسجد سے ہر روز صبح ساڑھے پانچ بجے مائیک پر اذان دینے کی وجہ سے میری نیند خراب ہو جاتی ہے۔ میری نیند میں اتنا زیادہ خلل پڑتا ہے کہ کوششوں کے باوجود میں دوبارہ سونہیں پاتی اور اس کے نتیجے میں دن بھر میرے سر میں درد رہتا ہے اور میں کام نہیں کر پاتی ہوں۔”الٰہ آباد یونیورسٹی کی وائس چانسلر نے اپنی شکایت میں مزید لکھا، ”میں کسی مذہب، ذات یا نسل کے خلاف نہیں ہوں۔ لیکن وہ مائیک کے بغیر بھی اذان دے سکتے ہیں۔ تاکہ دوسروں کو پریشانی نہ ہو۔ رمضان کے دنوں میں مائیک پر سحری کا اعلان صبح چار بجے شروع ہو جاتا ہے، جس سے دوسروں کو بھی پریشانی اْٹھانی پڑتی ہے۔ بھارتی آئین نے تمام فرقوں کو پر امن بقائے باہمی کی ضمانت دی ہے، جسے عملی طور پر نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔”
ضلعی حکام نے اذان کے متعلق شکایت موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔الہ آباد یونیورسٹی کے قریب واقع تاریخی لال مسجد کی انتظامی کمیٹی نے از خود فیصلہ کرتے ہوئے گوکہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز کم کر دی ہے اور اس کی سمت بھی وائس چانسلر کی رہائش گاہ کی جانب سے موڑ کر دوسری طرف کردی ہے۔ اس سے وائس چانسلرکا مسئلہ کوکافی حد تک کم ہوگیا، مگر اب یہ معاملہ سیاسی رنگ اختیار کرنے لگا ہے۔ مختلف سیاسی تنظیموں نے اذان پر پابندی کے خلاف شہر میں مظاہرے کیے ہیں۔اپوزیشن کانگریس سے وابستہ طلبہ تنظیم این ایس یو آئی نے وائس چانسلر کا پْتلا جلایا اور کہا کہ یہ مذہبی منافرت کو ہوا دینے کی بی جے پی کی چال ہے۔ اس تنظیم نے اذان پر پابندی کے مطالبے کی مذمت کی اور سوال کیا کہ صرف اذان سے ہی شہریوں کی نیند میں خلل کیوں پڑتا ہے۔ بھجن، کیرتن، آرتی اور کتھا کے دوران ہونے والے شوروغل سے انہیں پریشانی کیوں نہیں ہوتی۔
مودی سرکار نے درپردہ پولیس والوں کو احکامات جاری کیے ہیں کہ کسی بھی مسجد میں اذان نہیں ہونی چاہئے جس کے بعد دہلی کی مساجد میں اذان پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ دہلی اسمبلی کے حلقہ نانگلوئی میں پریم نگر پولیس اسٹیشن کے علاقہ کے ایک ویڈیو میں دہلی پولیس کے اہلکار مسجد میں اذان دینے پر پابندی لگائے جانے کی بات کر رہے ہیں۔دہلی پولیس کے اہلکار امام مسجد کو کہہ رہے ہیں کہ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل کے کہنے پر اذان پر پابندی عائد کی گئی ہے۔اس کے علاوہ کئی دوسرے علاقوں سے بھی اذان پر پابندی کی خبریں سامنے آئی ہے۔ اس پورے معاملے میں دہلی اقلیتی کمیشن نے پریم نگر اور مہیپال پور میں پیش آنے والے واقعات کی تصدیق کی ہے۔بھارتی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن اور معروف دینی درسگاہ لکھنو کے فرنگی محل کے سربراہ مولانا خالد رشید فرنگی محلی کہتے ہیں۔”اذان سے متعلق الٰہ آباد یونیورسٹی کی وائس چانسلر کے خط کی ہم مخالفت کرتے ہیں۔ انہیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ بھارت گنگا جمنی تہذیب کیلئے مشہور ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسجدوں سے اذانیں اور مندروں سے بھجن کیرتن فضا میں گونجتے رہتے ہیں۔ ان کی وجہ سے کسی کی نیند میں خلل نہیں پڑتا۔ لہذا اس طرح کے غیر ضروری معاملے کو اٹھا کر لوگوں کو گمراہ نہ کیا جائے۔ اذان کے حوالے سے ہائیکورٹ نے جو حکم دیا تھا اس پر تمام مساجد میں عمل کیا جاتا ہے۔”
٭٭٭
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: آباد یونیورسٹی اذان پر پابندی وائس چانسلر بھارت میں کے خلاف اذان کے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔