ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات، تجارتی امور میں بنیادی نکات پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
امریکہ اور چین کے درمیان آج تجارتی معاہدہ ہوسکتا ہے، امریکہ اور چین کے درمیان پہلے ہی بہت سی چیزوں پر اتفاق ہوچکا ہے، مزید کچھ معاملات پر آج اتفاق ہو جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات ہوئی ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی امور زیر بحث آئے ہیں۔ ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی ہم منصب سے کہا کہ آپ سے دوبارہ مل کر بہت خوشی ہوئی، امید ہے ملاقات انتہائی کامیاب ہوگی، امریکہ اور چین کے درمیان آج تجارتی معاہدہ ہوسکتا ہے، امریکہ اور چین کے درمیان پہلے ہی بہت سی چیزوں پر اتفاق ہوچکا ہے، مزید کچھ معاملات پر آج اتفاق ہو جائے گا۔
چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور امریکہ کو ایک دوسرے کا دوست ہونا چاہیئے، دونوں ملکوں کی تجارتی ٹیموں میں بنیادی نکات پر اتفاق ہوچکا ہے، دونوں ممالک کی ترقی کیلئے سازگار ماحول قائم کیا جائے، دونوں ممالک کے باہمی مفاد کے مسائل پر کھلے دل سے گفتگو ضروری ہے، حالیہ غزہ جنگ بندی میں صدر ٹرمپ کے اہم کردار کو سراہتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکہ اور چین کے درمیان پر اتفاق
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔