ڈونلڈ ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات طے، تجارتی تناؤ کم کرنے کی امید
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان ملاقات طے پا گئی ہے، جسے عالمی سطح پر تجارتی تناؤ میں کمی کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق چین نے تصدیق کی ہے کہ صدر شی جن پنگ جمعرات، 30 اکتوبر 2025 کو جنوبی کوریا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ دونوں رہنما اس ملاقات میں اسٹریٹجک اور طویل مدتی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ ترجمان نے کہا کہ چین اور امریکہ ملاقات کے مثبت نتائج کو فروغ دینے اور تعلقات کی مستحکم ترقی کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کے خواہشمند ہیں۔
صدر ٹرمپ جنوبی کوریا پہنچ چکے ہیں اور دورانِ سفر ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور شی جن پنگ دونوں ممالک کے لیے بہترین معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اس ملاقات کی توقعات نے گزشتہ ماہ مارکیٹوں کو مستحکم کرنے میں مدد دی، کیونکہ نئے تجارتی تناؤ کے خدشات تھے کہ عالمی سپلائی چینز پر اثر ڈالنے والی ٹیرف جنگ کے حل کے لیے مذاکرات رکے سکتے ہیں۔
واشنگٹن نے چین کی نئی نایاب زمینی برآمدات کے کنٹرولز کو تجارتی جنگ کی شدت میں اضافے کا سبب قرار دیا، جبکہ چین کا موقف ہے کہ یہ اقدامات امریکی پابندیوں اور چینی کمپنیوں کی امریکہ میں سرمایہ کاری کی محدود صلاحیت کے جواب میں کیے گئے ہیں۔
شی جن پنگ جمعرات سے ہفتے تک جنوبی کوریا میں ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (APEC) میٹنگ میں شرکت اور سرکاری دورے پر ہوں گے، تاہم صدر ٹرمپ اس سربراہی اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔