جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری منسوخی پر سندھ ہائیکورٹ میں نئی پیش رفت
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
سندھ ہائیکورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری منسوخی کیخلاف درخواست پر فریقین کی مہلت کی استدعا منظور کرلی۔ سندھ ہائیکورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کی منسوخی کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ فریقین نے جواب جمع کروانے کے لیے مہلت مانگی جس پر عدالت نے فریقین کی استدعا کو منظور کرتے ہوئے 27 نومبر تک جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے گزشتہ سماعت پر ڈگری منسوخ کرنے کے فیصلے کو معطل کیا تھا، درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری منسوخ کرنے سے قبل کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔ عدالت سے استدعا ہے کہ ڈگری منسوخی کے فیصلے کو ختم کیا جائے۔ کراچی یونیورسٹی کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔ درخواست میں جامعہ کراچی اور وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔