جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری منسوخی کیخلاف درخواست پر فریقین کی مہلت کی استدعا منظور
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
کراچی:
سندھ ہائیکورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری منسوخی کیخلاف درخواست پر فریقین کی مہلت کی استدعا منظور کرلی۔
سندھ ہائیکورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کی منسوخی کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔
فریقین نے جواب جمع کروانے کے لیے مہلت مانگی جس پر عدالت نے فریقین کی استدعا کو منظور کرتے ہوئے 27 نومبر تک جواب طلب کرلیا۔
عدالت نے گزشتہ سماعت پر ڈگری منسوخ کرنے کے فیصلے کو معطل کیا تھا، درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری منسوخ کرنے سے قبل کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔
عدالت سے استدعا ہے کہ ڈگری منسوخی کے فیصلے کو ختم کیا جائے۔ کراچی یونیورسٹی کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔ درخواست میں جامعہ کراچی اور وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔