اسلام آباد میں ای اسٹامپ سسٹم کا اجرا، پنجاب حکومت مدد کرینگی
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک: پنجاب حکومت نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری انتظامیہ کو ای اسٹامپ سسٹم شروع کرنے میں مدد دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد زمینوں کے ریکارڈ کو جدید بنانا اور پراپرٹی کے لین دین کو عوام کے لیے آسان بنانا ہے۔
اسلام آباد میں سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں ایک تقریب کے دوران پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی (PLRA) اور آئی سی ٹی انتظامیہ کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے کے تحت اسلام آباد میں جلد ہی ای اسٹامپ پیپر سسٹم متعارف کرایا جائے گا، یہ اقدام چیف کمشنر اور سی ڈی اے چیئرمین محمد علی رندھاوا کی ہدایت پر کیا گیا۔
لیسکو کا سموگ کے دوران بجلی بریک ڈاؤن سے بچاؤ کیلئے اقدامات کا آغاز
معاہدے کے مطابق اسلام آباد میں ای اسٹامپ سسٹم کے ساتھ ساتھ زمینوں کے ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کرنے کا عمل بھی شروع کیا جائے گا، اس نظام سے پراپرٹی کی خرید و فروخت، منتقلی اور انتقال جیسے کاموں میں عوام کو درپیش مسائل کم ہوں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ای اسٹامپ سسٹم کے ذریعے جعلی اسٹامپ پیپرز کا خاتمہ ممکن ہوگا، جب کہ تمام ٹرانزیکشنز آن لائن اور شفاف انداز میں کی جا سکیں گی۔ اس سے وقت اور اخراجات دونوں میں کمی آئے گی۔
ماضی کی معروف اداکارہ سیمی زیدی کس حال میں اور کہاں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سسٹم کامیابی سے نافذ ہو گیا تو اسلام آباد میں زمینوں سے متعلق ریکارڈ کا نظام پنجاب ماڈل کی طرز پر جدید اور محفوظ بن جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اسٹامپ سسٹم اسلام آباد میں
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔