بھارت: جعلی سائنسدان گرفتار، حساس ایٹمی معلومات اور 14 نقشے برآمد
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
ممبئی پولیس نے مبینہ طور پر ملک کے اہم ترین ایٹمی تحقیقی ادارے بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر (BARC) سے وابستگی ظاہر کرنے والے ایک جعلی سائنسدان کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے مشتبہ ایٹمی ڈیٹا اور 14 نقشے برآمد کر لیے ہیں۔
پولیس کی تحقیقات کے مطابق ان دستاویزات میں خفیہ یا حساس نوعیت کی معلومات موجود ہو سکتی ہیں جنہیں ماہرین اس وقت جانچ رہے ہیں۔
ملزم کی شناخت اور گرفتاریپولیس کے مطابق ملزم کا نام اختر قطب الدین حسینی ہے، جو ورسووا سے گزشتہ ہفتے گرفتار کیا گیا۔ وہ مختلف جعلی شناختوں کے تحت خود کو سائنسدان ظاہر کر رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیے بھارت میں خود ساختہ ریاست کا جعلی سفارتخانہ بے نقاب، ملزم گرفتار
پولیس نے اس کے قبضے سے جعلی پاسپورٹ، آدھار کارڈ، پین کارڈ اور بی اے آر سی کے جعلی شناختی کارڈ بھی برآمد کیے۔
ایک شناختی کارڈ پر اس کا نام علی رضا حسین درج تھا، جب کہ دوسرے پر الیگزینڈر پالمر۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزم نے گزشتہ چند ماہ کے دوران متعدد بین الاقوامی کالز کیں۔
پولیس کے مطابق اس کے کال ریکارڈز کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کہیں وہ کسی غیر ملکی نیٹ ورک سے تو رابطے میں نہیں تھا۔
ذرائع کے مطابق اس کے پاس سے برآمد ڈیٹا میں ایٹمی تنصیبات یا ریسرچ سے متعلق حساس معلومات شامل ہونے کا خدشہ ہے۔
جعلی شناختوں کا طویل ریکارڈتحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اختر حسینی 2004 میں دبئی سے ڈی پورٹ کیا گیا تھا، جہاں اس نے خود کو ’سائنسدان‘ ظاہر کر کے خفیہ دستاویزات رکھنے کا دعویٰ کیا تھا۔
ڈی پورٹ کیے جانے کے باوجود وہ جعلی پاسپورٹس کے ذریعے دوبارہ دبئی، تہران اور دیگر ممالک کے سفر کرتا رہا۔
یہ بھی پڑھیے دہلی، سوامی بابا پر جنسی ہراسانی کا الزام، جعلی سفارتی نمبر پلیٹ والی کار بھی برآمد
پرانا پتہ اور جعلی دستاویزاتذرائع کے مطابق اختر حسینی کا تعلق جمشید پور (جھاڑکھنڈ) سے ہے۔ اس نے 1996 میں اپنا آبائی مکان فروخت کر دیا تھا لیکن اسی پرانے پتے کو استعمال کرتے ہوئے نئی جعلی دستاویزات حاصل کرتا رہا۔
پولیس کے مطابق اختر کے بھائی عادل حسینی نے اسے منزل خان نامی شخص سے ملوایا، جس نے ان دونوں کے لیے 2 جعلی پاسپورٹ بنوائے۔
ایک حسینی محمد عادل کے نام سے اور دوسرا نسیم الدین سید عادل حسینی کے نام سے۔
تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ منزل خان کا بھائی الیاس خان بھی اس نیٹ ورک میں شامل ہے، جو اختر حسینی کو جعلی تعلیمی اسناد فراہم کرتا رہا، جن میں اسکول اور کالج کی ڈگریاں بھی شامل تھیں۔ الیاس خان کو پولیس نے اشتہاری قرار دے دیا ہے۔
سیاسی مقدمات اور دیگر الزاماتاختر حسینی کے خلاف میرٹھ پولیس میں بھی ایک مقدمہ درج ہے، جس میں اسے یوپی حکومت کے خلاف نفرت اور اشتعال پھیلانے کا ملزم قرار دیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم نے تفتیش کے دوران غلط بیانی کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس کا بھائی کئی سال پہلے فوت ہو چکا ہے، تاہم تحقیقات میں یہ بات غلط ثابت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیے مختلف اداروں کے بعد اب پیش خدمت ہے جعلی پولیس تھانہ، کہاں سے آتے ہیں یہ لوگ؟
ممبئی پولیس نے تمام برآمد شدہ دستاویزات اور ڈیٹا کو سیکیورٹی ایجنسیوں اور ایٹمی ماہرین کے حوالے کر دیا ہے تاکہ ان میں کسی سیکیورٹی خطرے یا راز افشا ہونے کے امکان کی جانچ کی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق معاملے کو قومی سلامتی کے دائرے میں لے جانے کا امکان بھی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اختر قطب الدین حسینی بھارت جعلی سائنسدان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اختر قطب الدین حسینی بھارت جعلی سائنسدان پولیس نے کے مطابق
پڑھیں:
مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
بلیوں اور دیگر معصوم جانوروں کی دل موہ لینے والی ویڈیوز برسوں سے انٹرنیٹ پر خوشی اور سکون کا ذریعہ سمجھی جاتی رہی ہیں تاہم مصنوعی ذہانت یا اے آئی سے تیار کی جانے والی جعلی ویڈیوز کی بڑھتی ہوئی تعداد نے اب ان پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا آپ اے آئی سے بنائی گئی جعلی تصویر پہچان سکتے ہیں؟ ماہرین نے 6 اہم نشانیاں بتا دیں
بی بی سی کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق اب بہت سے صارفین کسی بھی خوبصورت جانور کی ویڈیو دیکھ کر لطف اندوز ہونے کے بجائے پہلے یہ سوچتے ہیں کہ آیا یہ منظر حقیقت ہے یا مصنوعی ذہانت کی تخلیق۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں بلیوں اور دیگر جانوروں کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر معصومیت، خوشی اور حقیقی جذبات کی علامت سمجھی جاتی تھیں لیکن اب اے آئی کی بدولت ایسی ویڈیوز اتنی حقیقت سے قریب دکھائی دیتی ہیں کہ ان کی اصلیت پر یقین کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
یونیورسٹی آف جارجیا میں میڈیا اسٹڈیز کی ایسوسی ایٹ پروفیسر جیسیکا میڈوکس کے مطابق جانوروں کی ویڈیوز کی اصل خوشی اس احساس میں ہوتی ہے کہ یہ واقعی پیش آیا تھا جبکہ اے آئی اس احساس کو مکمل طور پر ختم کر دیتی ہے۔
مزید پڑھیے: بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچیں، اے آئی کے دور میں نئے خطرات سمجھیں
انہوں نے کہا کہ جب صارفین کو شک ہونے لگے کہ ویڈیو حقیقی نہیں تو وہ جذباتی طور پر اس سے جڑنے کے بجائے پہلے اس کی تصدیق کرنے لگتے ہیں جس سے خوشی کا احساس مصنوعی اور کھوکھلا محسوس ہونے لگتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہی صورتحال صرف جانوروں کی ویڈیوز تک محدود نہیں بلکہ ایسی ویڈیوز بھی متاثر ہو رہی ہیں جنہیں لوگ ’آڈلی سیٹسفائنگ‘ یا مزاحیہ کلپس کے طور پر پسند کرتے ہیں۔
اعتماد میں کمی کا خدشہماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صارفین جعلی جانوروں کی ویڈیوز کو قبول کرنے لگیں تو مستقبل میں سیاست دانوں، جرائم، حادثات اور دیگر اہم واقعات سے متعلق اے آئی سے تیار کردہ جعلی تصاویر اور ویڈیوز کو بھی آسانی سے سچ سمجھا جا سکتا ہے جو معاشرے میں غلط معلومات کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: اے آئی سے تیار جعلی شواہد نے کورین اداکار کا کیریئر تباہ کر دیا
رپورٹ میں سنہ 2024 میں امریکا میں آنے والے ہریکین ہیلین کا حوالہ بھی دیا گیا جب تباہ کن سیلاب کے دوران مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی متعدد تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں اور کئی افراد نے بعد میں یہ تسلیم کرنے کے باوجود کہ تصاویر جعلی تھیں انہیں حقیقت سے قریب قرار دیا۔
حقیقی تخلیق کار بھی متاثر ہوں گےماہرین کے مطابق اے آئی ویڈیوز کا ایک بڑا اثر حقیقی کانٹینٹ کریئیٹرز پر بھی پڑ سکتا ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت چند لمحوں میں بے شمار ویڈیوز تیار کر سکتی ہے جبکہ حقیقی ویڈیو بنانے والوں کو وقت، محنت اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔
اس صورتحال میں معیاری اور حقیقی مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے اپنی محنت کا مناسب معاوضہ حاصل کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
انٹرنیٹ کا اگلا بڑا چیلنججیسیکا میڈوکس کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر بظاہر معصوم اور تفریحی مواد بھی مستقبل میں زیادہ خطرناک غلط معلومات کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: جعلی ہولوکاسٹ تصاویر سے کمائی، اسپیمرز کا عالمی نیٹ ورک بے نقاب
رپورٹ کے مطابق اب سوال یہ نہیں کہ اے آئی جانوروں کی ویڈیوز بنا سکتی ہے یا نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ صارفین ایک ایسے انٹرنیٹ کے ساتھ کیسے مطابقت پیدا کریں گے جہاں حقیقت اور مصنوعی تخلیق میں فرق کرنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اصلی اور نقلی اے آئی اے آئی جانور جانوروں کی ویڈیوز جانوروں کی ویڈیوز کا مزہ کرکرا مصنوعی ذہانت