موٹروے ایم۔5 سی پیک سے چوری شدہ لاکھوں مالیت کا سرکاری سامان برآمد
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
موٹروے پولیس اور سندھ پولیس کے مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کر کے موٹروے ایم۔5 سی پیک سے چوری شدہ لاکھوں روپے مالیت کا سرکاری سامان برآمد کر لیا۔ترجمان موٹر وے سید عمران احمد کے مطابق روہڑی انٹرچینج کے قریب قائم ایک کباڑ خانے پر کامیاب چھاپہ مارا گیا، جہاں سے قومی اثاثہ بازیاب کیا گیا۔ڈپٹی ڈائریکٹر نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے مطابق برآمد ہونے والے موٹروے انفراسٹرکچر کی مجموعی مالیت تقریباً 30 لاکھ روپے ہے، برآمد شدہ سامان میں آئرن پوسٹس، سٹریٹ لائٹ پولز، اینٹی گلئیر شیلڈز اور فینسنگ شامل ہیں، جو موٹروے ایم۔5 کے مختلف حصوں سے چوری کئے گئے تھے۔آپریشن کے دوران سیکٹر کمانڈر موٹروے پولیس ایس پی فیصل اکرم اور ایس ایس پی سکھر اظہر مغل موقع پر پہنچے اور کارروائی کی نگرانی کی۔ترجمان کے مطابق موٹروے پولیس کی مدعیت میں 5 نامزد اور 6 نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
امتحان میں کامیابی کے باوجود عبدالمجید نوکری سے محروم، عمر کی حد رکاوٹ بن گئی
بھارتی ریاست کیرالہ(Kerala) سے ایک غیر معمولی اور حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک شخص کو سرکاری نوکری کا تقرری نامہ امتحان دینے کے 21 سال بعد جاری کیا گیا، تاہم اس وقت تک وہ عمر کی قانونی حد عبور کر چکا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عبدالمجید نے 2005 میں جونیئر عربی ٹیچر کی آسامی کے لیے امتحان دیا تھا۔ وہ اس امتحان میں کامیاب امیدواروں کی فہرست میں بھی شامل تھے، تاہم اس وقت انہیں تقرری نہیں مل سکی۔ سرکاری فہرست کی مدت تین سال تھی جو 2008 میں ختم ہو گئی، مگر اس دوران خالی آسامی کو پر نہیں کیا جا سکا۔
طویل عرصے تک معاملہ التوا میں رہنے کے بعد 24 اپریل 2026 کو اچانک عبدالمجید کو تقرری نامہ جاری کر دیا گیا۔ لیکن چونکہ اس وقت تک ان کی عمر 60 سال ہو چکی تھی، اس لیے وہ سرکاری ملازمت کے لیے قانونی طور پر اہل نہیں رہے اور ملازمت سنبھال نہیں سکے۔
یہ صورتحال نہ صرف ایک فرد کے لیے مایوسی کا باعث بنی بلکہ سرکاری نظام کی سست روی اور انتظامی تاخیر پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عبدالمجید کا کہنا ہے کہ اگر انہیں بروقت تقرری مل جاتی تو وہ برسوں پہلے اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہوتے اور ان کا کیریئر مختلف ہوتا۔
مزیدپڑھیں:فیفا ورلڈکپ 2026 کا آغاز 12 جون سے
مزید دلچسپ اور متنازع پہلو اس وقت سامنے آیا جب ان کے تعلیمی ریکارڈ میں تاریخ پیدائش 27 مئی 1966 درج ہے، جبکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی اصل تاریخ پیدائش 27 مئی 1967 ہے۔ ان کے مطابق اگر سرکاری ریکارڈ میں ایک سال کی درستگی کر دی جائے تو وہ اب بھی ملازمت کے اہل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے اس حوالے سے ریاستی وزیر تعلیم اور قانونی ماہرین کو باضابطہ درخواستیں بھی جمع کروائی ہیں، جن میں انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے، جہاں صارفین کی بڑی تعداد نے سرکاری نظام میں طویل تاخیر اور انتظامی ناکامی پر تنقید کی ہے، جبکہ کچھ لوگوں نے متاثرہ شخص سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔