پاکستانی خلا باز جلد چینی اسپیس اسٹیشن پر جائیں گے
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
بیجنگ(ڈیلی پاکستان آن لائن)چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان کے خلا بازوں کو اپنے خلائی اسٹیشن کے مشنز کے تحت ایک مختصر مدت کے مشن پر خلا میں بھیجے گا۔چینی خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق، یہ فیصلہ چین کے انسان بردار خلائی پروگرام (CMSA) کے ترجمان نے پریس کانفرنس میں کیا۔
ترجمان کے مطابق، پاکستانی خلا باز چینی خلا بازوں کے ساتھ تربیت حاصل کریں گے اور مشن کے دوران سائنسی تجربات اور آپریشنل سرگرمیوں میں حصہ لیں گے۔ چینی جریدے گلوبل ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ پاکستانی خلا باز عملے کے ساتھ معمول کے فرائض بھی انجام دیں گے۔یہ اعلان رواں سال مارچ میں سپارکو اور چین کی CMSA کے درمیان ہونے والے تعاون کے معاہدے کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے تحت پاکستان کے پہلے انسان بردار مشن کو چین کے خلائی اسٹیشن کے ذریعے بھیجنے پر اتفاق ہوا تھا۔وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا تھا کہ یہ معاہدہ چین کی جانب سے ایک قابلِ قدر اقدام ہے جو دونوں ممالک کے درمیان خلائی ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط کرے گا۔
پاک افغان مذاکرات میں آئندہ 5 روز اہم ہیں،معاملات سیاسی ہو یا عسکری، مذاکرات کی میز پر بیٹھ جاناہی 50فیصد کامیابی ہے،سلمان غنی
یاد رہے کہ 19 اکتوبر کو پاکستان کی خلائی ایجنسی سپارکو نے چین کے لانچ سینٹر سے پاکستان کا پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ (HS-1) کامیابی سے خلا میں بھیجا تھا، جسے پاکستان کے خلائی پروگرام میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا گیا۔یہ سیٹلائٹ جدید ہائپر اسپیکٹرل امیجنگ ٹیکنالوجی سے لیس ہے، جو زمین اور فضا کے باریک ترین رنگی بینڈز کا تجزیہ کر کے ماحولیاتی، زراعتی اور سائنسی تحقیق میں مدد فراہم کرے گا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔