چینی بحران یا قیمتیں بڑھنے کی ذمہ دار شوگر انڈسٹری نہیں بلکہ حکومتی اقدامات ہیں ،شوگرملز
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
اسلام آباد( نیوز ڈیسک )پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ ملک میں چینی کی کمی یا قیمتیں بڑھنے کی ذمہ دار شوگر انڈسٹری نہیں ہے بلکہ حکومتی اقدامات سے چینی کا بحران پیدا ہورہا ہے۔
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے اعلامیہ کے مطابق غیر معیاری درآمدی چینی بیچنے کے لیے ایف بی آر پورٹلز بند کیے گئے جس سے مارکیٹ میں چینی کی کمی ہوئی اور قیمتیں بڑھنا شروع ہوگئیں۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے حوالے سے حکومت کو اوائل اکتوبر سے ہی مختلف خطوط کے ذریعے آگاہ کیا جا رہا تھا۔
انڈسٹری نے بذریہ خطوط مخالفت کی تھی کہ غیرضروری درآمدی چینی نہ منگوائی جائے، ایف بی آر کے پورٹلز کو کھلا رکھا جائے تاکہ مارکیٹ میں چینی کی سپلائی متواتر رہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کو پہلا انتباہی خط 4 اکتوبر کو لکھا گیا جب کہ دوسرے اور تیسرے خطوط بالترتیب 9 اکتوبر اور 15 اکتوبر لکھے گئے جن میں یہ واضح طور پر بتایا گیا کہ حکومت ایف بی آر پورٹلز کی بندش کو جلد از جلد ختم کرے تاکہ مارکیٹ میں لوکل معیاری چینی کی سپلائی جاری رہے اور قیمتیں مستحکم رہیں۔
مزیدکہا گیا کہ مگر غیر معیاری درآمدی چینی کو بیچنے کی خاطر پورٹلز کو بند کیا گیا جس کی وجہ سے مارکیٹ میں سے چینی کی کمی اور قیمتیں بڑھنا شروع ہو گئیں، پورٹلز بند رہنے سے چینی کی کمی ہونے اور قیمتیں بڑھنے کی ذمہ دار شوگر انڈسٹری نہیں، نہ ہی اس سے شوگر انڈسٹری کو فائدہ ہوا ہے۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ مختلف اضلاع میں قائم شوگر ملوں کو مجبور کیا جارہا ہے کہ صرف حکومتی نامزد ڈیلرز کو ہی چینی فروخت کی جائے، انہیں خبردار کیا گیا کہ وہ براہ راست مارکیٹ میں چینی فروخت نہ کریں، ان اقدامات سے چینی کا بحران پیدا ہورہا ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ جب سے شوگر انڈسٹری حکومت کی توجہ اس اہم معاملے کی طرف مبذول کروا رہی ہے اگر تب انڈسٹری کی درخواستوں کو ملحوظِ خاطر رکھ لیا جاتا تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی۔
مزید کہا گیا کہ سپلائی پائپ لائن میں سے اب چینی کی فراہمی کے تسلسل میں فرق آیا ہے جو کہ قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شوگر انڈسٹری چینی کی کمی اور قیمتیں مارکیٹ میں کہا گیا کہ میں چینی کہ حکومت سے چینی
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔