Daily Mumtaz:
2026-06-03@02:44:53 GMT

زاہد احمد کا ڈیجیٹل کریئیٹرز کے خلاف بیان پر یو ٹرن

اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT

زاہد احمد کا ڈیجیٹل کریئیٹرز کے خلاف بیان پر یو ٹرن

معروف اداکار زاہد احمد نے سوشل میڈیا پر اپنے متنازع بیان پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کے الفاظ کا غلط مطلب لیا گیا۔

زاہد احمد کئی مشہور ڈراموں میں شاندار اداکاری سے شہرت حاصل کرچکے ہیں، ان دنوں ڈرامہ ’دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی‘ میں اپنی عمدہ کارکردگی سے داد سمیٹ رہے ہیں، ان کے انسٹاگرام پر 14 لاکھ سے زائد فالوورز ہیں اور وہ اکثر مذہب اور ایمان کے موضوع پر گفتگو کرتے نظر آتے ہیں۔

حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں زاہد احمد کے ایک بیان نے ہنگامہ برپا کردیا تھا، جس میں انہوں نے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل کریئیٹرز کے بارے میں سخت ریمارکس دیے تھے، بعدازاں زاہد احمد نے انسٹاگرام پر وضاحتی ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کا مطلب غلط سمجھا گیا۔

View this post on Instagram

A post shared by Zahid Ahmed (@zahid.

ahmed.official)


زاہد احمد نے کہا، ’میں پوڈکاسٹ میں سوشل میڈیا کے موجدین کے بارے میں بات کر رہا تھا، ڈیجیٹل کریئیٹرز کے بارے میں نہیں، میں نے انہیں جہنمی کہا، جو میری غلطی تھی، مجھے افسوس ہے کیونکہ میں نے جذبات میں آکر بات کی، مجھے کسی کے جنت یا جہنم کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں، یہ اللّٰہ کا کام ہے، میں اپنی بات درست کرنا چاہتا تھا کیونکہ مجھ سے بہت سے نوجوان متاثر ہوتے ہیں، اور میں دین سے متعلق غلط پیغام نہیں دینا چاہتا۔‘

اداکار کی اس وضاحت پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردِعمل سامنے آیا ہے، کئی صارفین نے زاہد احمد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اپنی غلطی تسلیم کرنا ایک بہادرانہ عمل ہے اور انہوں نے عاجزی دکھا کر اپنی عظمت ثابت کی۔

دوسری جانب کچھ صارفین نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ زاہد احمد کا سافٹ ویئر اپڈیٹ ہوگیا ہے، یعنی انہوں نے عوامی ردعمل کے بعد مؤقف بدل لیا۔

کچھ صارفین نے زاہد احمد اور ٹک ٹاکرز دونوں کو تنقید کا نشانہ بنایا، یہ کہتے ہوئے کہ دونوں فریق اپنی حد سے تجاوز کر رہے ہیں، کچھ نے مواد تخلیق کاروں پر الزام لگایا کہ وہ زاہد احمد کی بات کو سمجھ ہی نہیں پائے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا زاہد احمد ہوئے کہا ہوئے کہ

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم