Jasarat News:
2026-07-24@09:32:31 GMT

پاک بھارت اور ہندو مسلم تعلقات کی خرابی کا ذمے دار کون؟

اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان کے سیکولر اور لبرل دانش ور اور صحافی اسلام، مسلمانیت اور اسلامی پاکستان سے اتنے متغیّر ہیں کہ ان کو پاک بھارت تعلقات کی خرابی کا ذمے دار پاکستان اور ہندو مسلم تعلقات کی خرابی کے ذمے دار مسلمان نظر آتے نہیں۔ ایاز امیر ایک سیکولر اور لبرل دانش ور اور صحافی ہیں روزنامہ دنیا میں انہوں نے اس حوالے سے کیا لکھا ہے انہی کے الفاظ میں ملاحظہ کیجیے۔ لکھتے ہیں۔

’’ایک خطہ ٔ زمین پر دو قوموں کا تشکیل پانا کوئی عجیب بات نہیں۔ اور اس امر کی بنیاد پر اس خطہ ٔ زمین کا بٹوارا ہو جانا یہ بھی کوئی انوکھی بات نہیں۔ ایسی کتنی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ لیکن ایسی تقسیم کی بنیاد پر نفرت کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے کا پیدا ہونا‘ یہ منفرد بات ضرور ہے۔ بابائے قوم نے تو کہا تھا کہ وہ ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات ایسے دیکھتے ہیں جیسا کہ امریکا اور کینیڈا کے آپس میں۔ تقسیم ہو گئی‘ دو مختلف ممالک معرضِ وجود میں آ گئے اور بابائے قوم کو کوئی عار محسوس نہیں ہوتا تھا‘ ہندوستانی وزیراعظم جواہر لال نہرو کو خط لکھنے میں۔ پنجاب لہو لہان ضرور ہوا لیکن اس کی وجوہات کچھ اور تھیں۔ تقسیم ِ ہند کا فیصلہ ہوا تو دونوں طرف سے لیڈر تقسیم ِ پنجاب کے لیے تیار نہ تھے اور حالات ایسے بنے کہ دونوں طرف سے قتل ِ عام ہونے لگا۔

وجہ عناد تو کچھ سمجھ میں آئے۔ تقسیم ہو گئی تو وجہ عناد رہنی نہیں چاہیے تھی۔ یہ کہنا کہ ہندوستان نے پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کیا‘ بیکار کی باتیں ہیں۔ ہم نے بنگلا دیش کے قیام کو دل سے قبول کیا تھا؟ لیکن بنگلا دیش معرضِ وجود میں آگیا اور آج تک قائم ہے۔ جب اس ملک کے باسی ایسی باتیں کرتے ہیں تو ان کی خود اعتمادی پر سوال اٹھتا ہے۔ اس ضمن میں کشمیر کا ذکر کرنا بھی بات کو الجھانے کے مترادف ہے۔ کشمیر دو قومی نظریے کی بنیاد نہیں ہے۔ کشمیر کا مسئلہ بعد میں اٹھا‘ دو قومی نظریے کا تصور ہندوستانی تاریخ کے نشیب و فراز میں پنہاں ہے۔ پاکستان تحریک جب اپنے زوروں پر تھی کشمیر کا ذکر کہاں ملتا ہے؟ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے تو ایک تقریر میں کشمیر اور حیدرآباد دکن کے تبادلے کی بات کی تھی لیکن اس وقت کے ہمارے قائدین کی دلچسپی حیدرآباد دکن میں زیادہ تھی۔ کشمیر کا مسئلہ تو ذرا بعد میں پیدا ہوا۔

سارا مسئلہ 1965ء کی جنگ سے شروع ہوا۔ کوئی خاص وجہ نہ تھی اور دونوں ممالک آنکھوں پر پٹی باندھے برسرِپیکار ہو گئے۔ 17 دن بعد سکت ِ جنگ ٹھنڈی پڑ گئی اور روس کی مداخلت پر جنگ بندی ہو گئی۔ لیکن نفرت کے بیج ایسے بوئے گئے کہ دشمنی اٹل ہو گئی۔ یہاں کے لیے میڈم نور جہاں کے نغمے ہی کافی تھے‘ سحر اتنا کہ یہ سوال ہی نہ اْٹھا کہ پہل کس کی تھی۔ حملے کی صورت میں ہندوستانی واردات ستمبر میں ہوئی لیکن اس سے پہلے کا بھی ایک سلسلہ تھا جس کے بارے میں پاکستان میں زیادہ سوال نہیں اٹھتے۔ بہرحال جنگ کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کے پہلے فیلڈ مارشل ایوب خان کی حکمرانی پر گرفت کمزور ہوئی۔ دوسرا نتیجہ یہ کہ ذوالفقار علی بھٹو ایک پبلک ہیرو کے طور پر ابھرے۔‘‘ (روزنامہ دنیا، 2 نومبر 2025ء)

ہندو ازم اور ہندوئوں کے بالادست طبقات کی پوری تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ ہندوئوں کی مقدس کتاب وید میں صاف لکھا ہوا ہے کہ کائنات کا خالق اور مالک ورا الوریٰ ہے اور اس کی کوئی شبیہ نہیں بنائی جاسکتی مگر برہمنوں شتریوں اور ویشوں نے خدا کی مورتیاں بنا کر مورتی پوجا شروع کردی۔ ہندوئوں کی ایک اور مقدس کتاب مہا بھارت ہے۔ مہا بھارت میں صاف لکھا ہوا ہے کہ ایک برہمن کے گھر شودر اور ایک شودر کے گھر میں برہمن پیدا ہوسکتا ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ ہندو ازم میں ذات پات کا نظام اپنی اصل میں روحانی، اخلاقی اور علمی ہے۔ جو شخص زیادہ روحانی، اخلاقی اور علمی استعداد رکھتا ہے وہ برہمن ہے۔ جو شخص جسمانی طور پر طاقت ور ہے اور ریاست کی حفاظت کرسکتا ہے وہ ’’شتریہ‘‘ ہے۔ جو شخص ’’عقل معاش‘‘ زیادہ رکھتا ہے وہ ’’ویش‘‘ ہے اور جو شخص صرف ’’جسمانی محنت‘‘ کرسکتا ہے وہ ’’شودر‘‘ ہے۔ اصل ہندو ازم کی تعلیم یہ ہے۔ لیکن برہمنوں نے ہندوازم میں انسانوں کی تقسیم کے نظام کو صرف ’’پیدائشی‘‘ بنادیا ہے۔ چنانچہ برہمن کے گھر میں پیدا ہونے والا برہمن ہے خواہ وہ کتنا ہی بڑا شیطان کیوں نہ ہو اور شودر کے گھر میں پیدا ہونے والا ’’اچھوت‘‘ ہے خواہ وہ پیدائشی برہمن سے ایک لاکھ گنا اچھا کیوں نہ ہو۔ چنانچہ ہندوستان میں ہزاروں سال سے برہمن، شتریہ اور ویش عیش کررہے ہیں اور 50 کروڑ سے زیادہ شودر اور دلت جانوروں سے بدتر زندگی بسر کررہے ہیں۔ یہاں سوال یہ ہے کہ جو ہندو ہندوازم کی تشریح اور تعبیر حق کی بنیاد پر کرنے کے بجائے اپنے مفاد کے مطابق کرتے ہیں وہ اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ ظلم کیوں نہیں کریں گے؟ جو ہندو شودروں اور دلتوں کو جانور بنائے ہوئے ہیں وہ مسلمانوں اور پاکستان کے ساتھ کیا انصاف کریں گے؟ بدھ ازم کا معاملہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ بدھ ازم ہندوستان میں پیدا ہوا مگر چونکہ وہ برہمن ازم کے خلاف ایک بغاوت تھا اس لیے اعلیٰ ذات کے ہندوئوں نے بدھ ازم کو یوپی اور بہار میں قدم نہ جمانے دیے۔ انہوں نے بدھ ازم کو ہندوستان کے مضافات میں دھکیل دیا چنانچہ بدھ ازم نے پاکستان میں ٹیکسلا اور افغانستان میں بامیان کو اپنا مرکز بنایا۔ سوال یہ ہے کہ جو ہندو ہندوستان کے ’’مقامی مذہب‘‘ کو گلے نہ لگا سکے وہ ہندو مسلمان اور پاکستان کے ساتھ کیا اچھا سلوک کریں گے؟ سکھ ازم ہندو ازم سے الگ ہے مگر ہندوئوں نے سکھ ازم کو اتنا بدل دیا ہے کہ سکھ ہندوئوں کی توسیع محسوس ہوتے ہیں۔ مگر جب 1984ء میں اندرا گاندھی کے دو سکھ باڈی گارڈز نے اندرا گاندھی کو ہلاک کیا تو اعلیٰ ذات کے ہندوئوں نے سکھوں اور ہندوئوں کے قدیم تعلقات کو ایک طرف رکھتے ہوئے دلی میں ایک دن میں تین ہزار سکھوں کو ہلاک کیا۔ اس سے قبل اندرا گاندھی سکھوں کے خانہ کعبہ ’’گولڈن ٹیمپل‘‘ پر ٹینک چڑھا چکی تھیں۔ سوال یہ ہے کہ اعلیٰ ذات کے جو ہندو سکھوں کے ساتھ وفا نہ کرسکے وہ مسلمانوں اور پاکستان کے ساتھ کیا بہتر سلوک کریں گے؟

پاکستان کے سیکولر اور لبرل دانش وروں اور صحافیوں کا خیال ہے کہ ساری خرابی مسلمانوں کے دو قومی نظریے اور اس کی بنیاد پر ہونے والی سیاست سے پیدا ہوئی لیکن یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جس کی پوری تاریخ پر نظر نہ ہو۔ 1930ء میں جب دو قومی نظریے کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ اعلیٰ ذات کے ہندو ’’شدھی‘‘ کی تحریک چلا کر مسلمانوں کو لالچ اور دبائو کے تحت دوبارہ ہندو بنانے کی کوشش کررہے تھے۔ چنانچہ مولانا محمد علی جوہر نے ایک تقریر میں گاندھی کو مخاطب کرکے کہا کہ ہندو شدھی کی تحریک کے تحت مسلمانوں کو ہندو بنارہے ہیں اور آپ خاموش ہیں۔ منشی پریم چند اردو افسانے کے بنیاد گزار ہیں۔ انہوں نے ساری زندگی اردو میں ناول اور افسانے لکھے۔ وہ اسلامی تہذیب سے بہت زیادہ متاثر تھے۔ اس کا ثبوت ان کا معرکہ آرا افسانہ عید گاہ ہے۔ لیکن گاندھی کے زیر اثر آتے ہی پریم چند نے اردو میں افسانے لکھنے چھوڑ دیے اور وہ ہندی میں افسانے لکھنے لگے حالانکہ اردو اور ہندی جڑواں بہنوں کی طرح ہیں۔ اردو کا 30 فی صد سے زیادہ ذخیرہ الفاظ ہندی سے آیا ہے۔ اردو نے ہندی کی ایک درجن سے زیادہ اصوات یا آوازوں کو قبول کیا ہے مگر گاندھی کی سیاست نے پریم چند کو کچھ بھی یاد نہ رہنے دیا۔ پنڈت جواہر لعل نہرو کی بہن وجے لکشمی پنڈت نے ایک مسلمان سے شادی کرلی تھی۔

گاندھی کو اس کا علم ہوا تو وہ وجے لکشمی پر بہت ناراض ہوئے۔ کہنے لگے کہ تمہیں کروڑوں ہندو نوجوانوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں ملا جس سے تم شادی کرتیں۔ گاندھی نے وجے لکشمی پر اپنا دبائو ڈالا کہ انہوں نے مسلمان کے ساتھ اپنی شادی ختم کردی۔ یہ باتیں دو قومی نظریے کے ظہور اور تحریک پاکستان سے بہت پہلے کی ہیں۔

پاکستان ایک پرامن اور جمہوری جدوجہد کا حاصل تھا۔ 1940 سے 1947ء تک کہیں مسلمانوں نے ہندوئوں سے تصادم کی کوشش نہیں کی۔ مگر ہندو قیادت نے قیام پاکستان کے بعد دلی، یوپی اور پنجاب میں مسلمانوں کا قتل عام کراکے پاک بھارت تعلقات کی تاریخ کو خون آشام کردیا۔ ایسا نہ ہوتا تو پاک بھارت تعلقات بڑی حد تک ’’نارمل‘‘ رہ سکتے تھے۔ ہندو قیادت نے تنگ نظری اور تھڑدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے حصے کے مالی اثاثے روک لیے۔ یہ اتنی بڑی ناانصافی تھی کہ گاندھی تک کو ہضم نہ ہوئی اور گاندھی نے تادم مرگ بھوک ہڑتال کردی۔ چنانچہ ہندو قیادت کو طوعاً وکرہاً پاکستان کے حصے کے اثاثے پاکستان کو دینے پڑے۔ بدقسمتی سے بھارت کی ہندو قیادت نے تقسیم کے فارمولے کی روح کی بھی سنگین خلاف ورزیاں کیں۔ حیدر آباد دکن نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کردیا تھا مگر بھارت نے وہاں فوج کشی کرکے حیدر آباد کو پاکستان کے ساتھ الحاق سے روک دیا۔ کشمیر کے عوام بھی پاکستان کے ساتھ الحاق کے حامی تھے مگر ہندو سامراج نے کشمیر پر بھی فوج کشی کے ذریعے قبضہ کرلیا۔ بھارت ایسا نہ کرتا تو پاک بھارت تعلقات معمول کے تعلقات ہوسکتے تھے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ 1962ء کی بھارت چین جنگ کے وقت ہندوستان اپنی ساری فوجی طاقت کو چین کی سرحد پر لے گیا تھا۔ چین نے جنرل ایوب سے کہا کہ آپ اس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آگے بڑھیں اور بھارت سے اپنا کشمیر لے لیں مگر جنرل ایوب امریکا کے دبائو میں آگئے۔ اہم بات یہ ہے کہ بھارت نے پاکستان کی اس رعایت کو کبھی رعایت نہ گردانا اور اسے 1971ء میں مشرقی پاکستان میں گھس کر اسے بنگلا دیش بنانے کا موقع ملا تو بھارت نے یہ موقع ضائع نہ کیا۔

یہ بات تاریخ کے ریکارڈ پر ہے کہ مسئلہ کشمیر کو بھارت اقوام متحدہ میں لے کر گیا تھا چنانچہ اصولاً بھارت کو کشمیر کے لوگوں کے حق رائے دہی کو تسلیم کرنا چاہیے تھا مگر بھارت نے آج تک ایسا نہیں کیا۔ بھارت پاکستان کے حکمرانوں پر الزام لگاتا ہے کہ وہ ’’جنگ پرست‘‘ ہیں مگر پاکستانی حکمرانوں کی پوری تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ انہوں نے ہمیشہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیاقت علی خان نے لیاقت نہرو پیکٹ پر دستخط کیے۔ جنرل ایوب نے تاشقند میں بھارت کے ساتھ مذاکرات کیے۔ بھٹو نے بھارت کے ساتھ شملہ سمجھوتے پر دستخط کیے۔ جنرل ضیا الحق کے زمانے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر مذاکرات کے 9 ادوار ہوئے۔ جنرل پرویز مشرف کارگل کے ہیرو تھے مگر اس ’’ہیرو‘‘ نے کشمیر کے حوالے سے آگرہ میں ایسے مذاکرات کیے جو کشمیر اور پاکستان کے مفاد سے غداری کے مترادف تھے مگر بھارت نے ان مذاکرات کو بھی سبوتاژ کردیا۔ میاں نواز شریف تو تھے ہی بھارت کے آدمی۔ وہ نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں اس طرح شریک ہوئے جیسے وہ مودی کے غلام ہوں۔ جنرل عاصم منیر کے دور میں پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روز تک جنگ ہوئی مگر اس جنگ کے خاتمے پر جنرل عاصم منیر کے غلام میاں شہباز شریف نے بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کی۔ اس تاریخ کے باوجود بھی اگر کوئی پاکستانی سیکولر اور لبرل دانش ور یہ کہتا ہے کہ پاک بھارت تعلقات کی خرابی کا ذمے دار دو قومی نظریہ یا خود پاکستان ہے تو اس سے زیادہ جاہل اور بے ایمان کوئی نہیں ہے۔

 

شاہنواز فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سیکولر اور لبرل دانش ور پاک بھارت تعلقات پاکستان کے ساتھ تعلقات کی خرابی اور پاکستان کے دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہندو قیادت نے پاکستان انہوں نے سے زیادہ بھارت نے میں پیدا کشمیر کا اور ہندو بھارت کے یہ ہے کہ ایسا نہ کریں گے اور اس ہو گئی ذات کے کے گھر

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم