عاشقان رسولﷺ کو غازی علم دین کے راستے کو اپنانا ہوگا، مفتی طاہر مکی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251103-05-2
ٹنڈوآدم ( نمائندہ جسارت ) غازی علم الدین شہید کی خدمات کو سلام پیش کرتے ہیں عاشقان رسول کو غازی علم دین کے راستے کو اپنا نہ ہوگا امریکہ سمیت اسلام دشمن ممالک توہین رسالت قانون کو ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تنظیم تحفظ ناموس خاتم الانبیاء پاکستان کی جانب سے مسجد انوار ختم نبوت ٹنڈو آدم میں راجپال گستاخ رسول کو قتل کرنے والے عظیم مجاہد غازی علم الدین شہید کی یوم شہادت 31 اکتوبر کے حوالے سے عظیم الشان محافظ ختم نبوت کانفرنس منعقد کی گئی کانفرنس میں تنظیم تحفظ ناموس خاتم الانبیاء پاکستان کے سربراہ مفتی محمد طاہر مکی مرکزی نائب امیر حافظ محمد طارق الحمادی ختم جچوت لائیرز فورم کے چیئرمین میئومنظور احمدراجپوت ایڈوکیٹ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس شوری کے رکن جمعیت علماء اسلام ضلع سانگھڑ کے رہنما مولانا مفتی محمد یعقوب مگسی پاکستان کے نامور خطیب قاری عطاء الرحمن جامعہ علم وعمل کے مولانا حبیب الرحمن سعید جامعہ مدنیہ کے مولانا منظور احمد کمبوہ مولانا احمد اللہ بلوچ مولانا فضل اللہ بلوچ الحاج سلیمان روشن میڈیکل کے ڈاکٹر علی شان مولانافیضان قریشی مولانامحمدحیات قمر پاسبان ختم نبوت کے حافظ شیر اسامہ بن طاہر محافظین ختم نبوت کے محرم علی راجپوت اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غازی علم الدین شہید نے گستاخ رسول راجپال کو جہنم واصل کر کے جو تاریخ رقم کی ہے قیامت تک اسے یاد رکھا جائے گا مفتی محمد طاہر مکی نے کہا کہ ہماری خراج تحسین کا غازی علم الدین کو کوئی فائدہ نہیں اس سے ہم اونچے ہو رہے ہیں اور عاشقان رسول میں اپنا نام لکھوا رہے ہیں غازی علم الدین شہید کو تو آخری رات کال کوٹھڑی میں رسول اللہ کی زیارت ہوئی یہی ان کی نجات کے لیے کافی ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی غازی علم الدین جیسے سچے عاشقان رسول کی ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: غازی علم الدین شہید عاشقان رسول ختم نبوت
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔