چینی کی قیمت میں کمی نہ ہوسکی، انتظامیہ دفاتر تک محدود
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251103-05-9
کھپرو(نمائندہ جسارت) کھپرو میں چینی کے ریٹ میں کمی نہ ہو سکی کھپرو انتظامیہ دفاتر تک محدود شہریوں کی دوہائی ۔تفصیلات کے مطابق کھپرو میں چینی کے ریٹ میں کمی نہ ہو سکی کھپرو انتظامیہ دفاتر تک محدود ہے ہول سیل مارکیٹ میں چینی 190 روپے فی کلو جبکہ پرچون دوکاندار 200 سے 210 روپے فی کلو میں فروخت کر رہے ہیں جبکہ چینی ہو سیل مارکیٹ میں 50 کلو کا بیگ 9300 روپے سے زائد میں فروخت کر رہے ہیں جسارت رپوٹر نے مارکیٹ کے تاجر سے بات کی تو انہوں بتایا چینی مارکیٹ میں بہت شارٹ ہے سانگھڑ شوگر ملز مال نہے دے رہی اسیطرح دیگر شوگر ملز مال نہیں فروخت کر رہی ہے جس کی وجہ چینی مہنگی ہے آئندہ ماہ چینی کے ریٹ میں کمی ہو سکتی ہے وہ بھی حکومت دیحاں دے گی تو ؟ دوسری جانب شہریوں سے بات کی انہوں نے میڈیا کو بتایا کھپرو کے تاجروں نے اپنے چینی کے گودام بھر رکھے ہوئے ہیں چینی جان بوجھ شارٹ کر رکھی ہے شارٹ کا بہانہ بنا کر اپنا مال مہنگا بیچ رہے ہیں جبکہ تاجروں نے سستے داموں خرید کر رکھی ہے کھپرو انتظامیہ ان کے خلاف کارروائی نہیں کرتیشہری مہنگی دامو لینے پر مجبور ہے اسسٹنٹ کمشنر کھپرو پرائز کنڑول کمیٹی فوڈ اتھارٹی مارکیٹ میں چیک این بیلنس رکھنے میں ناکام دیکھائی دیتی نظر آتی ہے شہریوں نے بالا حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے چینی کے ساتھ ساتھ دیگر اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کی جائے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مارکیٹ میں چینی کے
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔