صدر مملکت کے خلاف تاحیات نہ کوئی کیس بن سکے گا نہ گرفتار کیا جا سکے گا، نئی ترمیم شامل
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
پاکستان کے آئین میں مجوزہ 27 ویں ترمیم کے مسودے میں ایک اہم تبدیلی شامل کی گئی ہے، جس کے مطابق صدر مملکت کے خلاف تاحیات کوئی کیس نہیں بنایا جا سکے گا اور نہ ہی انہیں گرفتار کیا جا سکے گا۔ یہ ترمیم پیپلز پارٹی کے مطالبے پر آئین کے آرٹیکل 248 میں کی جا رہی ہے۔
ستائیسویں آئینی ترمیم کے مسودے پر اتحادی جماعتوں کی جانب سے مسلسل تجاویز کا تبادلہ جاری ہے، جن میں کچھ نکات کو شامل کیا جا رہا ہے اور کچھ نکات کو نکالا جا رہا ہے۔ صدر مملکت کے خلاف کیسز نہ بنانے اور ان کی گرفتاری کو روکے جانے کی ترمیم بھی ان نئے مسودوں میں شامل کی گئی ہے۔
آرٹیکل 248 بی کے تحت، صدر مملکت کے خلاف کسی بھی نوعیت کا قانونی مقدمہ درج نہیں کیا جا سکے گا اور نہ ہی انہیں گرفتار یا سزا دی جا سکے گی۔ یہ ترمیم پیپلز پارٹی کی جانب سے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں پیش کی گئی تھی، جسے قبول کر لیا گیا اور آئینی مسودے میں شامل کر لیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: صدر مملکت کے خلاف جا سکے گا کیا جا
پڑھیں:
راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
— فائل فوٹوراولپنڈی میں 13 سو روپے کے لین دین پر 2 نوجوانوں کے قتل میں ملوث دونوں فریقین کے 7 افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ کے قتل میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزمان نے زین شاہ کو ٹارچر کر کے سفاکانہ طریقے سے قتل کیا تھا جبکہ مقتول سراج کے قتل میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ مقتول سراج پر گولی چلائی تھی، واقعہ 8 مئی کو تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آیا تھا۔
راولپنڈی میں کلرسیداں کے علاقے بشندوٹ میں 4 روز قبل دوران ڈکیتی قتل کا ڈراپ سین ہو گیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ نے مقتول سراج کی دکان سے گھر کے لیے خریداری کی تھی، مقتول سراج نے بقایا رقم 13 سو روپے کا تقاضہ کیا تو جھگڑا ہوا تھا۔
جھگڑے کے دوران گولی چلی جس سے مقتول سراج موقع پر جاں بحق ہو گیا تھا جبکہ مقتول سراج کا بدلہ لینے کے لیے اس کے رشتے داروں نے زین شاہ کو اغواء کر کے قتل کر دیا تھا۔