ستائیسویں آئینی ترمیم کیلیے نمبرز پورے ہونے کے سوال پر اسحاق ڈار کا جواب
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
ستائیسویں آئینی ترمیم کیلیے نمبرز پورے ہونے کے سوال پر اسحاق ڈار کا جواب WhatsAppFacebookTwitter 0 10 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ستائیسویں آئینی ترمیم کے لیے مطلوبہ نمبرز پورے ہونے سے متعلق صحافی کے سوال کا جواب دیدیا۔
سینیٹرز کے اعزاز میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے آج ناشتے کا اہتمام کیا گیا ہے، جس میں حکومت میں شامل جماعتوں کے ارکان سینیٹ کو مدعو کیا گیا تھا۔ قبل ازیں پارلیمنٹ ہاؤس کے بینکوئیٹ ہال میں ناشتے کے انتظامات مکمل کیے گئے جب کہ اس موقع پر وزیراعظم کی اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز سے ملاقات بھی ہوگی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف 27ویں آئینی ترمیم کی حمایت پر اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز کا شکریہ ادا کریں گے۔ ناشتے میں وفاقی کابینہ کے ارکان کو بھی مدعو کیا گیا تھا، جہاں وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ آئینی ترمیم پر بریفنگ بھی دیں گے۔
وزیراعظم کی جانب سے ناشتے کی دعوت میں شرکت کے لیے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے۔ اس موقع پر صحافی نے اسحاق ڈار سے سوال کیا کہ کیا سینیٹ میں نمبرز پورے ہیں۔ ایک اور صحافی نے پوچھا کہ کیا جان بلیدی صاحب مان گئے، جس پر نائب وزیراعظم نے جواب دیا کہ جب ووٹنگ ہوگی تو پتا چل جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ عرفان صدیقی صاحب سخت بیمار ہیں۔
نائب وزیراعظم نے نمبرز پورے ہونے کے سوال پر جواب دیا کہ جی ان شا اللہ!۔ صحافی نے پوچھا کہ کیا نیشنل پارٹی آئینی ترمیم کی حمایت کرے گی، جس پر اسحاق ڈار نے کہا کہ آپ کو پتا چل جائے گا جب ووٹنگ ہوگی۔
اس موقع پر پیپلز پارٹی کے سینیٹر شہادت اعوان نے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئینی عدالت وقت کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملٹری کمانڈ کے معاملے پر طویل مشاورت کی گئی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسینیٹر عرفان صدیقی کی صحت سے متعلق اہل خانہ کی وضاحت آ گئی سینیٹر عرفان صدیقی کی صحت سے متعلق اہل خانہ کی وضاحت آ گئی ستائیسویں ترمیم، سپریم کورٹ کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ہفتہ ایس آئی ایف سی کے تعاون سے امریکا سے درآمد شدہ مویشی پاکستان پہنچ گئے وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کیخلاف متنازع بیان دینے پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے 27ویں آئینی ترمیم کامسودہ منظور کرلیا،بل کل سینیٹ میں پیش کیا جائیگا ترمیم سے عدلیہ کی آزادی پر حملہ کیا گیا،804تسبیح والا آئیگا اور تمام ترامیم ملیا میٹ ہوجائیں گی، سینیٹر نور الحق قادریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نمبرز پورے ہونے اسحاق ڈار کے سوال
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔