چیف جسٹس امین الدین خان :چارج سنبھالتے ہی وفاقی آئینی عدالت میں اہم انتظامی تقرریاں
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت میں نئے انتظامی فیصلوں اور تقرریوں کا سلسلہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان نے اپنے منصب سنبھالنے کے بعد پہلا بڑا فیصلہ کرتے ہوئے عدالت کا نیا رجسٹرار مقرر کردیا ہے، چیف جسٹس نے سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد حفیظ کو رجسٹرار وفاقی آئینی عدالت تعینات کیا ہے، جو آئینی نوعیت کے معاملات، عدالتی نظم و نسق اور بینچز کے انتظامی امور کی نگرانی کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس امین الدین خان نے ایک اور اہم تقرری کرتے ہوئے مظہر بھٹی کو سیکریٹری ٹو چیف جسٹس کے عہدے پر تعینات کیا ہے، یہ عہدہ چیف جسٹس کے دفتری امور، عدالتی ایڈمنسٹریشن اور اہم رابطہ کاری میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، دونوں افسران کا شمار تجربہ کار عدالتی عملے میں ہوتا ہے، اور ان کی تقرری عدالت کے انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے اقدامات کا حصہ قرار دی جارہی ہے۔
اسی سلسلے میں آئینی عدالت کے نئے جج جسٹس کے کے آغا کی حلف برداری بھی طے پا چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق جسٹس کے کے آغا کل وفاقی آئینی عدالت کے جج کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے، جس کی تقریب اسلام آباد ہائی کورٹ میں منعقد ہوگی۔
حلف چیف جسٹس امین الدین خان خود دلائیں گے، جسٹس کے کے آغا کے شامل ہونے سے عدالت کی آئینی سماعتوں اور زیر التوا مقدمات کے فیصلوں کی رفتار میں بہتری آنے کی توقع ظاہر کی جارہی ہے۔
آئینی دائرہ اختیار رکھنے والی اس نئی عدالت میں جاری تقرریوں کو مستقبل کی آئینی تشریحات، آئینی تنازعات کے حل اور اعلیٰ عدالتی نظم و ضبط کے لیے اہم پیش رفت سمجھا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ جسٹس امین الدین خان نے وفاقی آئینی عدالت کے پہلےچیف جسٹس کاآج ہی اپنے عہدے کا حلف اٹھایا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جسٹس امین الدین خان وفاقی آئینی عدالت چیف جسٹس عدالت کے جسٹس کے
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔