سوئی میں وڈیرہ نورعلی چاکرانی کا 100 سے زائد ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈالنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی میں پاکستان ہاؤس میں بلوچ ریپبلیکن آرمی (براہمداغ بگٹی گروہ) کے بڑے کمانڈر وڈیرہ نورعلی چاکرانی نے اپنے 100 سے زائد ساتھیوں کے ہمراہ ریاست کے سامنے سرنڈر کرتے ہوئے ہتھیار ڈال دیے۔
میرآفتاب بگٹی کی موجودگی میں سرنڈر کرنے والے افراد سے پاکستان سے وفاداری کا حلف بھی لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ناراض بلوچ کی اصطلاح میڈیا کی پیدا کردہ، سرنڈر کرنے والوں سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان
اس موقع پر حکام نے ہتھیار پھینکنے کے فیصلے کو نہایت مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قدم نہ صرف ریاستی اداروں پر اعتماد کا اظہار ہے بلکہ وطن سے محبت، امن دوستی اور ڈیرہ بگٹی میں ترقی و استحکام کے عزم کی بھی واضح علامت ہے۔
حکام نے سرنڈر کرنے والوں کے اقدام کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کی آغوش میں واپسی کا یہ فیصلہ ڈیرہ بگٹی کے ہر گھرانے کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے۔
ان افراد نے ثابت کیا ہے کہ اصل وقاراورعزت جنگ و مزاحمت میں نہیں بلکہ امن، اتحاد اورترقی میں ہے۔
ساتھ ہی پہاڑوں میں موجود دیگر فراریوں سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ ہتھیار چھوڑ کر واپس قومی دھارے میں شامل ہوں، کیونکہ اُن کے بچوں اور آنے والی نسلوں کا مستقبل امن و استحکام سے جڑا ہوا ہے، نہ کہ تصادم اور بے یقینی سے۔
مزید پڑھیں: تشدد پسندی قابل قبول نہیں، وفاقی حکومت بلوچستان میں امن کی بحالی کے لیے تعاون کرے گی، وزیراعظم شہباز شریف
حکام کا کہنا تھا کہ آخر کب تک بھتہ خوری، بے چینی اور خوف کا سلسلہ جاری رہے گا؟ اب وقت ہے کہ ڈیرہ بگٹی کے لوگ مل کر ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل کی بنیاد رکھیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ڈیرہ بگٹی اس وقت ہی حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا جب اس کے تمام باشندے متحد ہو کر امن کا علم بلند کریں۔
ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ آنے والی نسلوں کو ایک ایسا پُرامن کل دیں جس پر سب کو فخر ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
براہمداغ بگٹی بلوچستان پاکستان ہاؤس ڈیرہ بگٹی سرنڈر سوئی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: براہمداغ بگٹی بلوچستان پاکستان ہاؤس ڈیرہ بگٹی ڈیرہ بگٹی کے لیے
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔