بلوچستان؛ خشک سالی کی صورتحال میں تشویشناک حد تک اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
ویب ڈیسک : بلوچستان کے مغربی اور جنوب مغربی علاقوں میں بارشوں کی کمی مزید شدت اختیار کر گئی، جس کے باعث خشک سالی کی صورتحال میں مزید شدت آنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کی جاری کردہ ایڈوائزری رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے مغربی اور جنوب مغربی بیشتر علاقوں میں سال بھر سے بارش ہی نہیں ہوئی ہے۔ پری الرٹ ایڈوائزری کے مطابق کوئٹہ، جیوانی میں 314 دن مسلسل خشک گزرے ہیں، کوئٹہ، پنجگور میں 234، نوکنڈی میں 263، دالبندین میں 275 دن سے بارش نہیں ہوئی۔
گوجرانوالہ کا ترقی کی شاہراہ پر بڑا قدم؛ شہباز شریف نے بیلچہ چلادیا
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کوئٹہ میں 103 دن مسلسل خشک گزرے ہیں، تربت میں 101، پسنی میں 80 دن مسلسل بارش نہیں ہوئی، کوئٹہ، چاغی، گوادر، کیچ، خاران ، مستونگ، نوشکی، کوئٹہ، پشین قلعہ عبداللہ ،پنجگور، واشک خشک سالی کی لپیٹ میں ہیں۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ مئی سے نومبر تک پنجگور اور جیوانی میں سو فیصد کم بارش ہوئی ہیں، دالبندین، نوکنڈی میں 99 فیصد، کوئٹہ میں 87 فیصد کم بارشیں ہوئیں ہیں، کوئٹہ، تربت میں 64 اور پسنی میں 50 فیصد کم بارشیں ہوئیں ہیں۔
پشین؛ عوام کو دیکھ کر میر سرفراز بگٹی اچانک گاڑی سے اتر کر لوگوں میں گھل مل گئے
محکمہ موسمیات نے حکومت کو احتیاطی اقدامات اٹھانے کی سفارش کردی، متاثرہ علاقوں میں پانی کے کم استعمال اور لوگوں کو آگاہی کیلئے اقداماے اٹھائے جائیں، کوئٹہ، صحت اور ویٹرنری موبائل ٹیموں کو علاقوں میں بھیجا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: علاقوں میں
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔