data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی( اسٹاف رپورٹر ) شہر کے مختلف علاقوں حادثات واقعا ت میں معصوم بچے اورخاتون سمیت 6افراد جاںبحق ہوگئے دیگر واقعات میں 8افراد زخمی ہوئے ۔تفصیلات کے مطابق ماڑی پور ٹرک اڈا گیٹ نمبر 6 کے قریب ٹرالر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار ایک نوجوان جاں بحق اور دوسرا زخمی ہوگیا۔ جاں بحق ہونے والے کی شناخت 18 سالہ عصمت ولد اعجاز جبکہ زخمی کی شناخت 18 سالہ نوید ولد ستورو کے ناموں سے ہوئی۔ جاں بحق نوجوان کی لاش اور زخمی کو سول اسپتال منتقل کیا گیا۔دونوں نوجوان غلامان عباس اسکول کے طالب علم اور ہاکس بے کے رہائشی تھے۔ وہ اسکول سے چھٹی کے بعد گھر واپس جا رہے تھے ۔ کورنگی کوسٹ گارڈ چورنگی کے قریب ٹریفک حادثے میں شدید زخمی ہونے والا شخص 50سالہ رفیق ولد محمد انور جناح اسپتال میں دوران علاج زخمو ں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا ،فیصل کالونی الفلاح ملت مو ڑ پر ڈمپر کی ٹکر سے ایک بچہ3سالہ عون محمد ولد ندیم جابحق ہو گیا ، قائد آباد پل غوثیہ ہوٹل کے قریب آئل ٹینکر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار27 سالہ عمران جاںبحق ہوگیا ۔ نیو کراچی سیکٹر 5 ایف دعا چوک نزد عیدگاہ گروانڈ سے45سالہ شخص کی لاش ملی، متوفی کی لاش کو متعلقہ تھانے سے قانونی کاروائی کے بعد لاش ایدھی ہوم سہراب گوٹھ ایدھی سردخانے منتقل کر دی گئی ۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، 4 افراد ہلاک
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد