ای چالان سسٹم کے مثبت اثرات، شہریوں میں قانون کی پاسداری کا رجحان بڑھ گیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) شہر قائد میں شاہراہوں پر نصب جدید کیمروں کے ذریعے متعارف کرایا گیا ای چالان سسٹم ٹریفک کے نظم و ضبط میں انقلابی بہتری لانے لگا ہے۔ شارع فیصل، کلفٹن، میٹروپول اور دیگر مرکزی شاہراہوں پر نصب کیمروں سے موصول مناظر میں دیکھا گیا ہے کہ شہری اب خالی سڑکوں اور بند دکانوں کے باوجود بھی سگنل پر رکنے لگے ہیں، جس سے ٹریفک قوانین کی پاسداری کا رجحان نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ٹریفک پولیس ذرائع کے مطابق ای چالان سسٹم کے نفاذ کے بعد کار سوار شہریوں میں قوانین کی پابندی سب سے زیادہ دیکھی جا رہی ہے، جبکہ موٹرسائیکل سواروں کے رویے میں بھی مثبت تبدیلی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ کیمروں کے ذریعے خودکار نگرانی اور جرمانوں کے اندیشے کے باعث شہری اب احتیاط برتنے لگے ہیں، جس کے نتیجے میں حادثات کی شرح میں کمی سامنے آئی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق، ای چالان نظام کے نفاذ کے بعد صرف پانچ روز میں 22 ہزار 869 الیکٹرانک چالان جاری کیے گئے، جن میں سے 4 ہزار 136 چالان صرف پانچویں روز کے دوران ہوئے۔ سب سے زیادہ 2 ہزار 737 چالان سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر، 812 ہیلمٹ نہ پہننے، 116 اوور اسپیڈنگ،169 سگنل توڑنے، اور 157 موبائل فون کے استعمال پر جاری کیے گئے۔اس کے علاوہ، 56 چالان ٹنٹڈ گلاسز، 24 نو پارکنگ، 20 اسٹاپ لائن کی خلاف ورزی، 20 مسافروں کو چھت پر بٹھانے، 15 لین لائن کی خلاف ورزی، 8 رانگ وے، اور11 اوور لوڈنگ کے معاملات پر کیے گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔