بھارت کی جنگی تیاریوں کے مقابلے میں ہماری عسکری تیاریاں جدید ہیں: دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
’جیو نیوز‘ گریب
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ بھارت کی جنگی تیاریوں کے مقابلے میں ہماری عسکری تیاریاں جدید ہیں۔
اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، ثالث افغان طالبان کے ساتھ ہمارے مطالبات پر نکتہ بہ نکتہ بات چیت کر رہے ہیں۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ استنبول میں پاکستانی مذاکراتی وفد نے ثالثوں کو اپنی لوجیکل معلومات شیئر کی ہیں، یہ معلومات منصفانہ ہیں اور فتنہ الخوارج سے متعلق ہیں، ہمارے مطالبات نہایت سادہ، واضح، منصفانہ اور شواہد پر مبنی ہیں۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کا واضح مؤقف ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو، مذاکرات کی تکمیل تک تبصرہ نہیں کر سکتے۔ مذاکرات کے نتائج تک ہم کوئی بیان یا تبصرہ نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری بہادر فضائیہ نے جتنے بھی طیارے گرائے وہ اب تاریخ کا حصہ ہیں، ہم اپنی فضائیہ کی طرف سے گرائے جانے والے طیاروں کی تعداد پر کھڑے ہیں، پاک فضائیہ نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو شکست دی۔
طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ بھارت نے امریکی صدر سے جنگ بندی کے لیے درخواست کی، امریکی صدر کا مؤقف انتہائی اہم ہے، بھارت کی جنگی تیاریوں کے مقابلے میں ہماری عسکری تیاریاں جدید ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔