دہشت گردی کو مسترد کرتے ہیں،یہ قومی عزم کو کمزور نہیں کرسکتی: اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی ہر شکل کو مسترد کرتے ہیں، دہشت گردی کسی مذہب، نسل یا سرحد کو نہیں مانتی، دہشت گردی قومی عزم کو کمزور نہیں کرسکتی۔
انہوں نے بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس 2025 میں تمام معزز مہمانوں اور مندوبین کو خوش آمدید کہا۔
کانفرنس سے خطاب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس پاکستان کی سفارتی کوششوں میں ایک اور سنگِ میل ہے، پارلیمانی سفارت کاری عوام کی آواز کو عالمی سطح پر اُجاگر کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی حالات میں مکالمہ اور تعاون ہی امن و ترقی کا راستہ ہیں، یو این چارٹر کے اصول پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہیں، پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات کو استحکام اور ترقی کا ذریعہ سمجھا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ترکیہ کے سی ون 30 کارگو طیارے کے جارجیا آذربائیجان سرحد کے قریب افسوسناک حادثے پر دکھ ہوا ہے۔
وزیرخارجہ نے اسلام آباد اور وانا میں دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں میں 15 قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا، دہشت گردی کی ہر شکل کو مسترد کرتے ہیں، دہشت گردی کسی مذہب، نسل یا سرحد کو نہیں مانتی، دہشت گردی قومی عزم کو کمزور نہیں کرسکتی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن ہونے پر فخر محسوس کرتا ہے، ہم نے سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق قرارداد پیش کی، بین الاقوامی تعاون میں مقابلے کے بجائے شراکت داری کو فروغ دینا ہوگا، پاکستان ترقی پذیر دنیا کی آواز بن کر پل کا کردار ادا کرتا رہے گا، بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس مکالمے اور باہمی احترام کا مظہر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز