کوئٹہ میں گرین بس سروس میں توسیع اور خواتین کے لیے صوبے کی پہلی پنک بس سروس کا افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں گرین بس سروس میں توسیع اور صوبے کی خواتین کے لیے پہلی پنک بس سروس کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔
اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ پنک بس سروس کا آغاز چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے وژن کی عملی تعبیر ہے، پنک اسکوٹیز کے بعد پنک بس سروس کا اجرا خواتین کے لیے باوقار، محفوظ اور سہل سفری سہولت فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بلوچستان حکومت کا خواتین کے لیے پنک بس سروس شروع کرنے کا اعلان
میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان عوام کو جدید اور معیاری ٹرانسپورٹ کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے، بس سروس کا دائرہ کار پشین، مستونگ اور تربت تک توسیع دی جا رہی ہے، جبکہ کوئٹہ سے سریاب تک پیپلز ٹرین منصوبے پر بھی بھرپور پیش رفت جاری ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے اعلان کیا کہ صوبے میں مستقبل قریب میں الیکٹرک بسیں متعارف کرائی جائیں گی تاکہ ماحولیاتی چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکے، خواتین کی بااختیاری معاشرتی ترقی کی بنیاد ہے، اور بلوچستان میں خواتین ڈپٹی کمشنرز نے اپنی بہترین انتظامی صلاحیتوں اور مثالی کارکردگی کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کتاب ہر ہاتھ میں، بلوچستان حکومت کا ’کتاب گاڑیوں‘ کا منفرد منصوبہ
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ جو عناصر خواتین کو خودکش جیکٹ پہنا کر گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں واضح پیغام ہے کہ حکومت تعلیم اور ترقی کے دروازے کھول رہی ہے، بلوچ عوام کو لاحاصل جنگ میں دھکیلا جا رہا ہے، جس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ ریاست اس جنگ میں کامیاب ہوگی اور بلوچستان کا مستقبل امن اور ترقی سے روشن ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پنک بس سروس کا خواتین کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔