وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں گرین بس سروس میں توسیع اور صوبے کی خواتین کے لیے پہلی پنک بس سروس کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔

اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ پنک بس سروس کا آغاز چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے وژن کی عملی تعبیر ہے، پنک اسکوٹیز کے بعد پنک بس سروس کا اجرا خواتین کے لیے باوقار، محفوظ اور سہل سفری سہولت فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

یہ بھی پڑھیے: بلوچستان حکومت کا خواتین کے لیے پنک بس سروس شروع کرنے کا اعلان

میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان عوام کو جدید اور معیاری ٹرانسپورٹ کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے، بس سروس کا دائرہ کار پشین، مستونگ اور تربت تک توسیع دی جا رہی ہے، جبکہ کوئٹہ سے سریاب تک پیپلز ٹرین منصوبے پر بھی بھرپور پیش رفت جاری ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے اعلان کیا کہ صوبے میں مستقبل قریب میں الیکٹرک بسیں متعارف کرائی جائیں گی تاکہ ماحولیاتی چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹا جا سکے، خواتین کی بااختیاری معاشرتی ترقی کی بنیاد ہے، اور بلوچستان میں خواتین ڈپٹی کمشنرز نے اپنی بہترین انتظامی صلاحیتوں اور مثالی کارکردگی کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کتاب ہر ہاتھ میں، بلوچستان حکومت کا ’کتاب گاڑیوں‘ کا منفرد منصوبہ

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ جو عناصر خواتین کو خودکش جیکٹ پہنا کر گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں واضح پیغام ہے کہ حکومت تعلیم اور ترقی کے دروازے کھول رہی ہے، بلوچ عوام کو لاحاصل جنگ میں دھکیلا جا رہا ہے، جس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ ریاست اس جنگ میں کامیاب ہوگی اور بلوچستان کا مستقبل امن اور ترقی سے روشن ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پنک بس سروس کا خواتین کے لیے

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع