پنجاب کے اسکولوں میں موسم سرما کی چھٹیوں کا اعلان کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
پنجاب کے اسکولوں میں موسم سرما کی چھٹیوں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
محکمہ تعلیم پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صوبے بھر کے تمام اسکولوں میں موسم سرما کی چھٹیاں 22 دسمبر سے 10 جنوری تک ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں میں بھی موسم سرما کی تعطیلات کا اعلان
تمام سرکاری اور نجی اسکول 11 جنوری سے دوبارہ کھلیں گے۔
یہ فیصلہ سردی کی شدت اور طلبہ کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے تاکہ بچے بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں اور چھٹیوں کے دوران بہتر تیاری کے ساتھ اگلے تعلیمی سیشن میں واپس آئیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلات کا شیڈول جاری
قبل ازیں پنجاب حکومت نے بڑھتی ہوئی اسموگ کے باعث اسکولوں کے اوقات کار میں بھی تبدیلی کی تھی، جس کے مطابق کسی بھی تعلیمی ادارے کو صبح 8 بجکر 45 منٹ سے پہلے کھولنے کی اجازت نہیں تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسکول پاکستان چھٹیاں محکمہ تعلیم پنجاب موسم سرما نوٹیفکیشن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسکول پاکستان چھٹیاں محکمہ تعلیم پنجاب نوٹیفکیشن میں موسم سرما کی
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔