بی جے پی الیکشن کمیشن کو ووٹ چوری کے آلے کے طور پر استعمال کررہی ہے، راہل گاندھی
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ووٹ چوری کی کارروائیاں کر کے "آئیڈیا آف انڈیا" کو تباہ کر رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ انڈین نیشنل کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی الیکشن کمیشن کو ووٹ چوری کے آلے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ راہل گاندھی نے ایکس پر پوسٹ کیا ہندوستان کے لوگ یہ تین بہت اہم اور براہ راست سوال پوچھ رہے ہیں۔ چیف جسٹس کو الیکشن کمیشن کی سلیکشن کمیٹی سے کیوں ہٹایا گیا، الیکشن کمیشن کو 2024ء کے انتخابات سے پہلے تقریباً مکمل قانونی تحفظ کیوں دیا گیا، 45 دنوں میں سی سی ٹی وی فوٹیج کو تباہ کرنے میں اتنی جلدی کیوں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک ہی جواب ہے۔ الیکشن کمیشن کو ووٹ چوری کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ووٹ چوری کی کارروائیاں کر کے "آئیڈیا آف انڈیا" کو تباہ کر رہی ہے۔
پارلیمنٹ میں انتخابی اصلاحات پر بحث کے دوران 2023ء کے الیکشن ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر کانگریس کی حکومت بنتی ہے، تو اس ایکٹ میں سابقہ اثر کے ساتھ ترمیم کی جائے گی اور الیکشن کمشنروں پر مقدمہ چلایا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2023ء کے ایکٹ میں ترمیم کی ضرورت ہے کیونکہ اس نے الیکشن کمشنروں کو جو چاہیں کرنے کا اختیار دیا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ چیف جسٹس کو اس کی سلیکشن کمیٹی سے باہر رکھا گیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز (تقرری، سروس کی شرائط اور میعاد) ایکٹ 2023 کے تحت، تین رکنی سلیکشن کمیٹی وزیر اعظم، پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر اور ایک کابینہ وزیر پر مشتمل ہوتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن کو راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں انہوں نے ووٹ چوری
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔