غزہ میں بارش کا قہر: آٹھ ماہ کی بچی سردی سے جاں بحق، خیمہ بستیوں میں تباہی
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
غزہ پٹی میں شدید بارش نے سینکڑوں عارضی خیموں کو پانی میں ڈبو دیا جن میں دو سالہ مسلسل جنگ سے بے گھر ہونے والے خاندان رہائش پذیر تھے۔ مقامی صحت حکام کے مطابق بارش اور سرد موسم کے باعث خان یونس میں ایک آٹھ ماہ کی بچی، رہاف ابو جزر، جاں بحق ہوگئی۔
طبی عملے نے بتایا کہ بچی کی موت اس وقت ہوئی جب رات کے دوران بارش کا پانی اس کے خیمے میں بھر گیا۔ والدہ ہیجر ابو جزر نے روتے ہوئے بتایا کہ بچی بالکل ٹھیک تھی، لیکن خیمے میں داخل ہونے والے پانی اور ٹھنڈی ہوا نے اسے موت کی نیند سلا دیا۔
خان یونس کے مختلف خیمہ بستیوں میں لوگ اپنے خیموں سے پانی نکالنے اور مٹی کو ہٹانے میں لگے رہے۔ کئی رہائشیوں نے کہا کہ بارش کے بعد بستر اور کپڑے دو دو دن تک خشک نہیں ہوتے اور خیمے موسمی حالات کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں۔
بلدیاتی حکام اور سول ڈیفنس کے مطابق غزہ میں ایندھن کی شدید کمی اور آلات کی تباہی کے باعث طوفان سے نمٹنا ممکن نہیں ہو رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران اسرائیل نے پانی نکالنے والی مشینیں اور بلڈوزرز سمیت سینکڑوں گاڑیاں تباہ کر دیں۔
سول ڈیفنس نے بتایا کہ غزہ بھر کے بیشتر خیمہ بستیوں میں سیلابی پانی داخل ہوگیا ہے اور انہیں 2,500 سے زائد امدادی کالز موصول ہوئیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 761 کیمپوں میں رہنے والے تقریباً 8 لاکھ 50 ہزار افراد کو شدید سیلاب کا خطرہ لاحق ہے، جب کہ ہزاروں افراد بارش سے پہلے ہی محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ اور فلسطینی حکام نے بتایا کہ تقریباً 15 لاکھ بے گھر افراد کے لیے کم از کم 3 لاکھ نئے خیموں کی فوری ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ خیمے بوسیدہ ہو چکے ہیں۔ غزہ کے شہری تباہ شدہ گھروں سے لوہے کی سلاخیں نکال کر خیموں کو سہارا دینے یا بیچنے پر مجبور ہیں۔
In #Gaza, winter rains are falling, once again, bringing new hardships.
Flooded streets and soaked tents are making already dire living conditions even more dangerous.
Cold, overcrowded, and unsanitary environments heighten the risk of illness and infection.
This suffering… pic.twitter.com/U3Sub8oqgX
— UNRWA (@UNRWA) December 11, 2025
اگرچہ 10 اکتوبر سے جنگ بندی بڑی حد تک برقرار ہے، مگر بنیادی ڈھانچے کی تباہی نے فلسطینیوں کو بدترین حالات میں چھوڑ دیا ہے۔ حماس حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل ضروری امداد اندر نہیں آنے دے رہا، جبکہ اسرائیل اس الزام کو مسترد کرتا ہے۔
غزہ سٹی میں بارش کے باعث تین کمزور مکانات بھی منہدم ہوگئے۔ جنگ بندی کے بعد لاکھوں فلسطینی غزہ سٹی کے ملبے میں واپس آ چکے ہیں جبکہ اسرائیلی افواج شہر سے پیچھے ہٹ چکی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بتایا کہ
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔