اے آئی کی دنیا میں انقلاب: اوپن اے آئی کا میوزک جنریٹر متعارف کرانے کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
اوپن اے آئی ایک ایسا مصنوعی ذہانت پر مبنی میوزک ٹول تیار کر رہی ہے جو صرف تحریری یا صوتی ہدایات کی بنیاد پر مکمل موسیقی تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس فیچر کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ موسیقی کے متن اور آڈیو پرامپٹس کے امتزاج سے اصل اور تخلیقی موسیقی پیدا کی جائے، جو خاص طور پر ویڈیوز کے لیے انسٹرومنٹل بیک گراؤنڈ فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیں: اوپن اے آئی کا نیا ویب براؤزر گوگل کروم کے لیے چیلنج کیوں؟
اس نئے ٹول کی خبر منظرِ عام پر آنے کے بعد، امریکی تعلیمی ادارے جولیارڈ اسکول نے ان اطلاعات کی تردید کی کہ انہوں نے کوئی میوزک جنریشن ٹول تیار کیا ہے۔
OpenAI is working on a new tool that would generate music based on text and audio prompts, according to a report in The Information.
— TechCrunch (@TechCrunch) October 25, 2025
ادارے نے وضاحت کی کہ انہوں نے اوپن اے آئی سے رابطہ ضرور کیا تھا، تاہم کمپنی کی طرف سے فوری جواب موصول نہیں ہوا۔
یاد رہے کہ 2019 میں، چیٹ جی پی ٹی کی مقبولیت سے پہلے، اوپن اے آئی نے ’میوز نیٹ‘ کے نام سے ایک نیورل نیٹ ورک متعارف کرایا تھا، جو 10 مختلف آلاتِ موسیقی کے ساتھ 4 منٹ کی کمپوزیشن تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
مزید پڑھیں:اوپن اے آئی نے فری یوزرز کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا ’پروجیکٹس‘ فیچر متعارف کرا دیا
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دیگر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی اپنی اپنی میوزک جنریشن ٹیکنالوجی متعارف کروا رہی ہیں۔
اسپوٹیفائی نے حال ہی میں ایک نیا فیچر متعارف کرایا ہے جو صارفین کو زیادہ کنٹرول اور انٹرایکٹیویٹی فراہم کرتا ہے، اور یہ فیچر صوتی کمانڈز کے بغیر بھی صنف، موڈ اور سرگرمی کی بنیاد پر موسیقی منتخب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس طرح آڈیو اور ٹیکسٹ دونوں پرامپٹس پر مبنی جنریٹو اے آئی میوزک ٹول کا انضمام اس شعبے میں ایک نمایاں اور مسابقتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اوپن اے آئی ٹول مصنوعی ذہانت میوز نیٹ میوزک نیورل نیٹ ورک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اوپن اے ا ئی ٹول مصنوعی ذہانت میوز نیٹ میوزک نیورل نیٹ ورک اوپن اے آئی کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔