ایپل واچ صارفین کیلیے خوشخبری:واٹس ایپ کا نیا ورژن آزمائشی مرحلے میں داخل
اشاعت کی تاریخ: 1st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سان فرانسسکو: واٹس ایپ نے ایپل واچ صارفین کے لیے ایک اہم اور دلچسپ فیچر متعارف کرانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔
عالمی ٹیکنالوجی ذرائع کے مطابق انسٹنٹ میسجنگ ایپ واٹس ایپ اب ایپل واچ کے لیے ایک مخصوص ایپ ورژن کی آزمائش کر رہی ہے، جو صارفین کے لیے موبائل کے بغیر بھی رابطہ برقرار رکھنے کا نیا تجربہ ثابت ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایپل واچ کے اس نئے واٹس ایپ ورژن میں صارفین اپنی چیٹ لسٹ دیکھ سکیں گے، میسجز پڑھ اور میڈیا فائلز دیکھنے کے ساتھ ساتھ فوری طور پر نئے پیغامات بھی بھیج سکیں گے۔ اس فیچر کے ذریعے صارفین کو نوٹیفکیشن کا انتظار کیے بغیر ہی چیٹ کھولنے اور جوابی پیغام دینے کی سہولت حاصل ہوگی۔
واٹس ایپ بیٹا انفو کی تفصیلات کے مطابق اس آزمائشی ورژن میں ایموجیز کے ذریعے میسج ری ایکشن کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے، جس سے صارفین گفتگو کے دوران اپنے تاثرات فوری طور پر ظاہر کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ آڈیو میسج بھیجنے اور وائس ان پُٹ کے ذریعے پیغام لکھوانے کی خصوصیت بھی اس ورژن میں شامل ہے۔
اس فیچر کے استعمال کے لیے ایپل واچ کو مسلسل اُس آئی فون سے کنیکٹ رکھنا ضروری ہوگا جس میں واٹس ایپ انسٹال ہو۔ فی الحال یہ ایپ محدود پیمانے پر بیٹا ٹیسٹنگ کے لیے دستیاب ہے اور صرف وہی صارفین اسے استعمال کر سکتے ہیں جن کے آئی فونز میں واٹس ایپ کا بیٹا ورژن iOS 25.
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ فیچر کامیاب ثابت ہوتا ہے تو مستقبل میں ایپل واچ صارفین کے لیے واٹس ایپ کے استعمال کا طریقہ کار یکسر بدل سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں صارفین کو بغیر فون ہاتھ میں لیے پیغامات، تصاویر اور وائس نوٹس بھیجنے کی سہولت حاصل ہوگی، جو اسمارٹ ویئر ایپس کے میدان میں ایک بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایپل واچ واٹس ایپ کے لیے
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔