رومانیا کے سفیر کی وفاقی وزیر جنید انور چوہدری اور چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ عتیق الرحمن سے ملاقات، دوطرفہ بحری تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق WhatsAppFacebookTwitter 0 3 November, 2025 سب نیوز

کراچی(آئی پی ایس ) پاکستان میں رومانیا کے سفیر ڈاکٹر ڈین اسٹونیسکو نے وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری اور چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ عتیق الرحمن سے کراچی میں پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایگزیبیشن اینڈ کانفرنس کے موقع پر کراچی پورٹ ٹرسٹ بورڈ میں ایک اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات کا مقصد پاکستان اور رومانیا کے درمیان بحری اور تجارتی تعاون کو مزید فروغ دینا تھا۔ملاقات کے دوران دونوں جانب سے بحری شعبے میں مزید مضبوط شراکت داری کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ دونوں ممالک کی جغرافیائی اہمیت نمایاں ہییورپ کے لیے بحیرہ اسود کا گیٹ وے، پورٹ آف کنسٹانسا، اور جنوبی ایشیا و مشرق وسطی کا اہم بحری مرکز، کراچی پورٹ۔ گفتگو میں پورٹ آپریشنز، تجارتی سہولیات اور لاجسٹکس میں تعاون بڑھانے پر توجہ دی گئی، تاکہ علاقائی رابطہ کاری اور معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے باہمی فائدہ مند شراکت داریوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔ملاقات میں پورٹ آف کنسٹانسا اور کراچی پورٹ کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے بارے میں بھی بات چیت ہوئی، جس پر دونوں فریق پہلے ہی اتفاق کر چکے ہیں اور جس پر جلد دستخط کیے جائیں گے۔ یہ معاہدہ طویل المدتی تعاون کے لیے فریم ورک فراہم کرے گا، جس میں پورٹ مینجمنٹ، انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ، ڈیجیٹل لاجسٹکس اور تکنیکی مہارت کے تبادلے کے ساتھ ساتھ یورپ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان تجارت کے بہتر راستے پیدا ہوں گے۔ اس میں پائیداری، گرین پورٹ ٹیکنالوجیز اور موثر کارگو ہینڈلنگ کے مشترکہ اقدامات بھی شامل ہوں گے۔دونوں جانب سے جدید کارگو ہینڈلنگ، اسمارٹ پورٹ ٹیکنالوجیز کے استعمال اور کسٹمز و شپنگ سسٹمز کی بہتری کے ذریعے لاجسٹکس اور پورٹ انفراسٹرکچر کی ترقی پر غور کیا گیا۔ کنسٹانسا پورٹ کے کثیرالمواصلاتی نظام جس میں سمندر، ریل اور سڑک کے ذریعے نقل و حمل شامل ہے کو کراچی پورٹ کے عالمی سپلائی چین سے انضمام کے لیے ایک مثالی ماڈل کے طور پر پیش کیا گیا۔

مزید برآں، انسانی وسائل کی تربیت اور استعداد کار میں اضافہ کو بحری ترقی کا بنیادی ستون قرار دیا گیا۔ اس سلسلے میں کے افسران اور تکنیکی عملے کے لیے تربیتی اور تبادلہ پروگرام شروع کرنے پر بات چیت ہوئی، جن میں پورٹ مینجمنٹ، میری ٹائم سیفٹی، ماحولیاتی معیار، اور ڈیجیٹل لاجسٹکس و کارگو ٹریکنگ شامل ہوں گے۔ اس تعاون کے نتیجے میں جدید بندرگاہی نظام کو چلانے کے قابل تربیت یافتہ عملہ تیار ہوگا۔فریقین نے نجی شعبے کی شمولیت، بندرگاہی سرمایہ کاری، اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے تجارت کو فروغ دینے کے امکانات پر بھی بات کی۔ بہتر پورٹ تعاون سے جنوبی ایشیا، یورپ اور وسطی ایشیا کے درمیان نئے تجارتی راستوں کی راہ ہموار ہوگی، جس سے پاکستان کی عالمی بحری تجارت میں اہمیت بڑھے گی اور رومانیا کو ایشیائی مارکیٹس تک بہتر رسائی حاصل ہوگی۔سفیر ڈاکٹر ڈین اسٹونیسکو نے کہا کہ رومانیا پاکستان کے ساتھ پائیدار اقتصادی اور سفارتی روابط کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے اور کنسٹانسا اور کراچی کے درمیان بحری تعاون ہمارے خطوں کو تجارت، جدت اور دوستی کے ذریعے قریب لانے کی عملی مثال ہے۔ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقوں نے جلد ایم او یو پر دستخط کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور بحری شعبے کے ساتھ ساتھ اقتصادی، تعلیمی اور ثقافتی تعاون کو بھی فروغ دینے کا عہد کیا۔ یہ ملاقات پاکستان اور رومانیا کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کی عکاس تھی، جو خوشحالی، رابطہ کاری اور باہمی اعتماد کے مشترکہ مقاصد سے جڑے ہوئے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرقومی اسمبلی کا اجلاس بدھ 5نومبر کو طلب کرنے کا فیصلہ،سمری وزیراعظم کو ارسال قومی اسمبلی کا اجلاس بدھ 5نومبر کو طلب کرنے کا فیصلہ،سمری وزیراعظم کو ارسال ماحولیاتی تبدیلیوں پر کوپ 30کانفرنس ، وزیراعظم نے نمائندگی کیلئے مصدق ملک کو نامز دکر دیا غزہ میں فوج بھیجنے کا فیصلہ حکومت اور پارلیمنٹ کریگی، فوج کو سیاست سے دور رکھا جائے، ڈی جی آئی ایس پی آر جعلی اکاونٹس کیس،عدالتی حکم پر جج احتساب عدالت نے نیب دائرہ اختیار پر فیصلہ نہ سنانے کی وجوہات پر مبنی رپورٹ جمع کروادی ایف بی آر کو مزید ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں ہے: چیئرمین ایف بی آر پاکستان کی خارجہ پالیسی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی، وزیر دفاع TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کراچی پورٹ ٹرسٹ رومانیا کے تعاون کو

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا