اجلاس میں بھتہ خوروں، سونے کی اسمگلنگ، حوالہ و ہنڈی کے غیر قانونی کاروبار اور منی لانڈرنگ میں ملوث عناصر کیخلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی اپیکس کمیٹی کا 20واں اجلاس چیف منسٹر سیکرٹریٹ کوئٹہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان سمیت اعلیٰ عسکری اور سول حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت اور مفاد عامہ سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں گزشتہ اپیکس کمیٹی کے فیصلوں پر عملدرآمد کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور ان کی توثیق کی گئی۔ کمیٹی نے صوبے میں امن و امان کے قیام اور ریاستی رٹ کے استحکام کے لیے کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اجلاس میں بھتہ خوروں، سونے کی اسمگلنگ، حوالہ و ہنڈی کے غیر قانونی کاروبار اور منی لانڈرنگ میں ملوث عناصر کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا۔

کمیٹی نے ایف آئی اے بلوچستان کی موجودہ کارکردگی پر اظہار عدم اطمینان کرتے ہوئے وائٹ کالر کرائم اور بھتہ خوری کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر اور تیز کرنے کی ہدایت کی۔ اپیکس کمیٹی نے ریاست مخالف اور نفرت انگیز اشاعتی مواد پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔ کمیٹی نے قرار دیا کہ ایسے اقدامات قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہیں اور ان کے تدارک کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط حکمتِ عملی کے تحت کارروائیاں جاری رکھیں۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ایم بی بی ایس کی تعلیم مکمل کرنے والے ڈاکٹرز تین سال تک اپنے متعلقہ اضلاع میں خدمات سرانجام دینے کے پابند ہوں گے، تاکہ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

کمیٹی نے پوست کی کاشت اور اس کے لین دین میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ پوست کی خرید و فروخت یا لین دین میں ملوث عناصر کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کیے جائیں گے۔ اجلاس میں بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشییٹیوز (BSDI) کے تحت مکمل شدہ منصوبوں پر اطمینان کا اظہار کیا گیا جبکہ زیرِ تکمیل منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کی گئیں۔ اپیکس کمیٹی نے کوئٹہ میں گیس پریشر کی کمی کے مسئلے پر بھی غور کیا اور سوئی سدرن گیس کمپنی کو عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے مؤثر اقدامات کی ہدایت دی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی بحالی کے لیے کئے گئے اقدامات کو نتیجہ خیز بنایا جا رہا ہے۔ صوبے میں بھتہ خوری، سونے کی اسمگلنگ، منی لانڈرنگ اور وائٹ کالر جرائم کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ریاست مخالف اور منافرت پر مبنی مواد کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس ضمن میں ابتک کی جانے والی کارروائیاں قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں میں عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈاکٹرز کو اپنے اضلاع میں کم از کم تین سال خدمات انجام دینا ہوں گی۔  سرفراز بگٹی نے کہا کہ پوست کی کاشت اور لین دین میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ اس ناسور کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشییٹیوز کے تحت عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں اور حکومت ان منصوبوں کی تکمیل میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوئٹہ میں گیس پریشر میں کمی کے باعث عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اس حوالے سے سوئی سدرن گیس کمپنی کے جنرل منیجر کو عوامی شکایات کے فوری ازالے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ جبکہ گیس لوڈ شیڈنگ سے متعلق وفاقی وزارت کو مراسلہ بھی ارسال کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے سول و عسکری اداروں کے درمیان مربوط رابطہ کار کو مزید مستحکم بنایا جا رہا ہے، تاکہ بلوچستان میں امن و استحکام کا تسلسل برقرار رہے۔ اجلاس میں صوبائی وزراء میر سلیم خان کھوسہ، میر شعیب نوشیروانی، بخت محمد کاکڑ، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان سمیت اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سونے کی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کا فیصلہ کیا اپیکس کمیٹی اجلاس میں نے کہا کہ کمیٹی نے کیا گیا کے خلاف کے لیے

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پانچ اگست کا جلسہ فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا: سہیل آفریدی
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 4 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ اور سہولت کار بھی پکڑے گئے
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ