WE News:
2026-07-24@03:47:25 GMT

صوبے کی ترقی اور امن کے لیے تمام اتحادی یکجا ہیں، سرفراز بگٹی

اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT

صوبے کی ترقی اور امن کے لیے تمام اتحادی یکجا ہیں، سرفراز بگٹی

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے کی ترقی اور امن کے لیے تمام اتحادی یکجا ہیں، مشترکہ وژن ہی صوبے کی اصل قوت ہے۔

کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں اتحادی جماعتوں کی اعلیٰ صوبائی قیادت اور اراکین اسمبلی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل، وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی، اسپیکر عبدالخالق اچکزئی اور ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ نے خصوصی شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ بلوچستان کی تبدیلی کا کوئی معاہدہ نہیں دیکھا، رہنما ن لیگ سلیم کھوسہ

اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ کے پارلیمانی لیڈر میر سلیم خان کھوسہ، پیپلزپارٹی بلوچستان کے صدر سردار عمر گورگیج، بلوچستان عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر نوابزادہ طارق مگسی، میر صادق سنجرانی اور اے این پی کے رہنما انجینیئر زمرک خان اچکزئی بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں بلوچستان کی مجموعی سیاسی صورتحال، امن و امان اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اتحادی جماعتوں نے صوبائی حکومت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی استحکام کے لیے مل کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔

بلوچستان میں قیام امن کے لیے کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور مزید بہتری کے لیے تجاویز بھی پیش کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ ن کا وزیر اعلیٰ بلوچستان سر فراز بگٹی کی سیاسی مشکلات میں ساتھ دینے کا اعلان

 اجلاس میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے، گڈ گورننس کے فروغ اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ فلاحی حکمت عملی پر بھی اتفاق ہوا تاکہ ترقی کے ثمرات عام شہری تک پہنچ سکیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ سیاسی ہم آہنگی اور مضبوط پارلیمانی رابطے صوبے کے مستقبل کی ضمانت ہیں۔

 انہوں نے یقین دلایا کہ صوبے کی ترقی اور امن کے لیے تمام اتحادی یکجا ہیں اور مشترکہ وژن ہی صوبے کی اصل قوت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آصف علی زرداری وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ناراض، ملاقات سے انکار

گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ صوبے میں امن اور ترقی کے ایجنڈے پر اتحادیوں کی یکجہتی خوشگوار سیاسی ماحول کی عکاسی کرتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اتحادی جماعتیں بلوچستان بیٹھک.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اتحادی جماعتیں بلوچستان بیٹھک میر سرفراز بگٹی امن کے لیے وزیر اعلی صوبے کی

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن