متنازع ٹوئٹ کیس ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے ہادی علی چٹھہ کی بریت کی درخواست خارج کر دی
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
متنازع ٹوئٹ کیس ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے ہادی علی چٹھہ کی بریت کی درخواست خارج کر دی WhatsAppFacebookTwitter 0 29 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹوئٹ کیس میں ہادی علی چٹھہ کی بریت کی درخواست خارج کر دی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے ہادی علی چھٹہ کی بریت کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے احکامات جاری کیے۔
معروف وکیل ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹوئٹ کیس آخری مرحلے میں داخلہ ہوچکا ہے اور اسٹیٹ کونسل کی جانب سے استغاثہ کے تمام گواہان پر جرح مکمل کی گئی۔عدالت نے اسٹیٹ کونسل کو 342 کا سوال نامہ فراہم کرنے کی ہدایت کردی اور جج افضل مجوکہ نے اسٹیٹ کونسل سے استفسار کیا کہ آپ کو سوال نامہ دے رہے ہیں اور آپ جواب جمع کروا دیں، اگر ملزمان جواب نہ دیں تو آپ کو جواب دینا ہے۔عدالت کی پراسکیوشن کو 4 دسمبر کو 342 کا سوال نامہ جمع کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ متنازع ٹویٹ کیس کی سماعت 4 دسمبر تک ملتوی کردی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرشہباز شریف کا عمران خان پر 10ارب روپے ہرجانے کا کیس، اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اہم بیان ریکارڈ کرا دیا شہباز شریف کا عمران خان پر 10ارب روپے ہرجانے کا کیس، اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اہم بیان ریکارڈ کرا دیا شہری پراپرٹی پر قبضے سے متعلق ڈی سی آفس میں درخواست دیں،دنوں میں فیصلہ ہوگا، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بھارت کی عالمی سطح پر ایک اور ناکامی، آئی ایم ایف نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بھارتی معیشت کو سی گریڈ دیدیا بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی طبیعت مزید بگڑ گئی ایف بی آر نومبر میں ٹیکس وصول کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے باخبر قیادت، قومی یکجہتی اور مربوط پالیسی سازی ضروری ہے، صدرمملکتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کی بریت کی درخواست ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن متنازع ٹوئٹ کیس ہادی علی چٹھہ
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔