نو مئی ریڈیو پاکستان پشاور حملہ کیس، ملزمان کی فرانزک تصدیق کیلئے درخواست دائر
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
درخواست مدعی مقدمہ کے وکیل شبیر حسین گگیانی ایڈووکیٹ نے پشاور میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں دائر کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ واقعے کی کرائم ویڈیوز کی پی ایف ایس اے سے تصدیق اور نادرا سے شناخت کی جائے۔ اسلام ٹائمز۔ نو مئی کو ریڈیو پاکستان پشاور پر حملے میں ملوث ملزمان کی پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی سے تصدیق اور نادرا سے شناخت کے لیے درخواست دائر کردی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق درخواست مدعی مقدمہ کے وکیل شبیر حسین گگیانی ایڈووکیٹ نے پشاور میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں دائر کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ واقعے کی کرائم ویڈیوز کی پی ایف ایس اے سے تصدیق اور نادرا سے شناخت کی جائے۔ درخواست کے متن میں درج تھا کہ ویڈیوز کے معائنے سے اشتغال دلانے حملہ کرنے اور دیگر عناصر کی شناخت ضروری ہے۔
مزید برآں ویڈیوز میں جانے پہچانے لوگ بھی نظر آرہے ہیں جو احتجاج کا حصہ تھے۔ ویڈیوز کے معائنے سے اصل ملزمان کی تصدیق ہوگی، ویڈیوز کی فرانزک سے متعلق اعلی عدالتوں کے فیصلے موجود ہے۔ عدالت براہ راست ارسال کریں یا کسی پولیس کی تفتیشی ونگ کو احکامات جاری کریں۔ درخواست کے ساتھ تمام ویڈیوز کی یو ایس بی بھی فراہم کردی گئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ویڈیوز کی
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔