data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251026-8-5
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ”سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 02 آف 2025” کے تحت بزنس کمیونٹی کے نمائندوں کی فہرست جاری کر دی ہے، جن سے کسی بھی بزنس مین کے خلاف تحقیقات یا گرفتاری سے قبل مشاورت لازمی قرار دی گئی ہے۔قابل فخر امر ہے کہ حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر سلیم میمن کو اس اہم کمیٹی میں بزنس کمیونٹی کے نمائندے کے طور پر شامل کیا گیا ہے یہ اعزاز محض دیا نہیں گیا بلکہ حیدرآباد چیمبر کی مسلسل محنت، عملی جدوجہد اور سنجیدہ تجاویز کے نتیجے میں حاصل کیا گیا ہے۔صدر چیمبرسلیم میمن نے کہا کہ یہ نامزدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ حیدرآباد چیمبر نے ہمیشہ نہ صرف تاجروں کے مفاد میں آواز بلند کی ہے بلکہ ٹیکس نظام میں اصلاحات، ٹیکس نیٹ کے دائرہ کار میں اضافے، اور شفاف و منصفانہ پالیسیوں کے فروغ کے لیے اہم تجاویز پیش کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد چیمبر نے پچھلے عرصے میں چیئرمین ایف بی آر، وفاقی وزیرِ خزانہ اور دیگر متعلقہ حکام کو متعدد تحریری خطوط اور تجاویز ارسال کیں جن میں ایف بی آر کی بہتری، ٹیکس نظام کی شفافیت، تاجروں کے اعتماد کی بحالی، اور بزنس کمیونٹی،ایف بی آر اور حکومت پاکستان کے درمیان مثبت تعلقات کے فروغ پر زور دیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد چیمبر طویل عرصے سے ٹیکس نظام میں بہتری اور معیشت کی مضبوطی کے لیے ریسرچ پر مبنی تجاویز پیش کر رہا ہے، جس کا مقصد ملک کی ترقی، محصولات میں اضافہ اور چھوٹے تاجروں کی شمولیت کے ذریعے ٹیکس نیٹ کے دائرہ کو وسعت دینا ہے۔صدرچیمبر نے کہا کہ یہ کامیابی دراصل پورے سندھ (کراچی کے علاوہ) کے تاجروں اور صنعت کاروں کے اعتماد اور اجتماعی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی جانب سے یہ اعتماد تاجر برادری اور سرکاری اداروں کے درمیان باہمی احترام اور تعاون کے نئے دور کا آغاز ہے۔انہوں نے چیئرمین ایف بی آر اور ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشنز کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے چھوٹے تاجروں کے نمائندہ ادارے کو قومی سطح پر شامل کر کے تاجروں میں اعتماد کی فضا کو مزید مضبوط کیا۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس کمیٹی میں پورے خلوص، دیانت اور نیک نیتی کے ساتھ تاجروں کے مفادات کے تحفظ، شفافیت، اور منصفانہ ٹیکس پالیسی کے فروغ کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہ حیدرا باد چیمبر ایف بی ا ر تاجروں کے نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن