پاکستان کی خاتون پولیس افسر نے بھارتی حریف کو شکست دے کر عالمی اعزاز جیت لیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
راولپنڈی پولیس کی انسپکٹر ارم خانم نے بھارتی حریف کو شکست دے کر بین الاقوامی اعزاز اپنے نام کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق ارم خانم نے سری لنکا میں ہونے والی ورلڈ پاور لفٹنگ چمپئن شپ 2025 میں 2 گولڈ میڈلز حاصل کیے۔
انسپکٹر ارم خانم نے پاور لفٹنگ میں اوّل پوزیشن حاصل کر کے گولڈ میڈل حاصل کیا۔ اس کے علاوہ ڈیڈ لفٹ کے مقابلوں میں بھی اوّل پوزیشن حاصل کر کے گولڈ میڈل حاصل کیا۔
انسپکٹر ارم خانم کی سی پی او آفس آمد پر راولپنڈی پولیس کی طرف سے پرتپاک استقبال کیا گیا۔
سی پی او سید خالد ہمدانی نے انسپکٹر ارم خانم کی حوصلہ افزائی کی اور شاباش دیتے ہوئے کہا کہ انسپکٹر ارم پنجاب پولیس کا ایک درخشاں ستارہ ہیں۔
سید خالد ہمدانی نے کہا کہ انسپکٹر ارم خانم کی نمایاں کامیابی نہ صرف محکمہ پولیس بلکہ پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انسپکٹر ارم خانم
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔