data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251031-08-32
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں متنازع ٹوئٹ کیس میں ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم عاید کر دی گئی۔ ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کیس کی سماعت کی، ایمان مزاری اور ہادی علی کی جانب سے صحت جرم سے انکار کر دیا گیا، جس پر عدالت نے اگلی سماعت پر استغاثہ کے تمام گواہان کو طلب کر لیا، جبکہ ہادی علی چٹھہ کو دوبارہ ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا۔ ہادی علی چٹھہ نے کہا کہ میں مچلکے نہیں بھروں گا، آپ نے ایک سال بھی جیل میں رکھنا ہے تو رکھیں، آپ نے کل غیر قانونی کام کیا ہے، آپ جج بننے کے اہل نہیں ہیں۔ ایمان مزاری نے کہا کہ آپ ہمیں گرفتار کروانا چاہتے ہیں، میری بھی ضمانت منسوخ کروادیں۔ جج افضل مجوکہ نے ریمارکس دیے کہ میرا اصول ہے کہ میں آپ کو عزت دوں گا تو مجھے عزت ملے گی۔ وکیل صفائی قیصر امام نے کہا کہ سر انہوں نے دیگر کیسز میں بھی پیش ہونا ہوتا ہے، کبھی ہائی کورٹ تو کبھی راولپنڈی۔ جج افضل مجوکہ نے ریمارکس دیے کہ میں نے اسی وجہ سے ان کے کہنے پر 3 دفعہ سماعت ملتوی کی۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 5 نومبر تک ملتوی کر دی۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ واضح رہے کہ این سی سی آئی اے کی جانب سے درج ایف آئی آر کے مطابق ایمان مزاری اور ان کے شوہر پر الزام ہے کہ وہ سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے لسانی بنیادوں پر تقسیم کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لاپتا افراد کے معاملات کی ذمہ داری سیکیورٹی فورسز پر عاید کی تھی۔ یہ مقدمہ الیکٹرانک کرائم کی روک تھام کے ایکٹ (پیکا) کی دفعات 9، 10، 11 اور 26 کے تحت درج کیا گیا تھا۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ

پڑھیں:

اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔

اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔

انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔

سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی