data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251031-08-29
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی سندھ کے امیرکاشف سعید شیخ نے کہا ہے کہ 21 نومبر کومینارپاکستان پر ہونے والا اجتماع عام ظلم کے خلاف اورعادلانہ نظام کے قیام کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔ڈاکو راج اورقبائلی تصادم سندھ کے لیے ایک ناسور کی شکل اختیار کرگئے ہیں۔ بدامنی وقبائلی جھگڑوں سے سندھ کا امن،تعلیم اور معیشت بری طرح متاثر ہے۔قیام امن کے لیے حکومت کا جرائم پیشہ افراد کے خلاف بلاتفریق آپریشن کرنے کے بجائے ڈاکوئوں کا ریڈکارپیٹ استقبالیہ لمحہ فکر ہے۔ڈاکوسرینڈرپالیسی اورڈی آئی جی کی گاڑی کے ای چالان کے معاملے نے پولیس کارکردگی پرکئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔سندھ میں جرائم اورمجرموں کے خاتمے لیے ضروری ہے کہ ظالم سرداروں، ڈاکو اورپولیس میں موجودکالی بھیڑیوںکا نیٹ ورک توڑاجائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شکارپور میں اجتماع عام کی تیاریوں کے سلسلے میں منعقدہ ذمے داران کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔صوبائی نائب امیرپروفیسر نظام الدین میمن،امیرضلع عبدالسمیع بھٹی بھی موجود تھے۔انہوں نے مزید کہاکہ غنی امان چانڈیو سمیت سندھ سے نوجوانوں کی جبری گمشدگی تشویش ناک ہے ۔اگر کوئی فردکسی جرم میں ملوث ہے تو اسے آئین وقانون کے مطابق ظاہر اور کیس چلایا جائے مگر سندھ میں بلوچستان جیسے حالات پیدانہ کیے جائیں۔سندھ پاکستان بنانے والا صوبہ ہے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود